تاثیر،۱۳ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی،13؍نومبر: راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے ادے پور کے درزی کنہیا لال کے قتل پر بی جے پی پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنہیا لال کا قتل کرنے والے کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی 25 نومبر کو ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سی ایم گہلوت نے اتوار کو جودھ پور میں صحافیوں کو بتایا کہ اگر راجستھان پولس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) نے اس کیس کو نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے بجائے ہینڈل کیا ہوتا تو تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکی ہوتی۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے اور جیسے ہی مجھے اس کی اطلاع ملی میں نے اپنا طے شدہ پروگرام منسوخ کر دیا اور ادے پور روانہ ہو گیا۔ تاہم بی جے پی کے کئی سرکردہ لیڈروں نے ادے پور واقعہ کے بارے میں جان کر بھی حیدرآباد میں ہونے والے ایک پروگرام میں شرکت کا فیصلہ کیا تھا۔ واقعہ کے دن ہی این آئی اے نے کیس کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور ریاستی حکومت نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔سی ایم گہلوت نے مزید کہا کہ کوئی نہیں جانتا کہ این آئی اے نے کیا کارروائی کی۔ اگر ہماری SOG معاملے کی تحقیقات کر لیتی تو اب تک مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا چکا ہوتا۔آپ کو بتا دیں کہ گزشتہ سال 28 جون کو ادے پور کے مالداس علاقے میں کنہیا لال کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق دونوں ملزمان نے واردات کے فوری بعد سوشل میڈیا پر ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ اس ویڈیو میں اس نے “سر قلم” کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم واقعے کے چند گھنٹوں میں ہی دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے ویڈیو میں اپنی شناخت ریاض اختری اور غوث محمد کے نام سے کی۔راجستھان کے وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ اس واقعے سے چند دن پہلے حملہ آوروں کو پولیس نے ایک اور معاملے میں گرفتار کیا تھا اور بی جے پی کے رہنما انہیں رہا کرانے کے لیے تھانے پہنچے تھے۔ غور طلب ہے کہ گزشتہ سال 28 جون کو دو حملہ آور ادے پور میں ان کی دکان میں گھس گئے اور بی جے پی کی معطل لیڈر نوپور شرما کی حمایت میں مبینہ طور پر مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں دن دیہاڑے درزی کنہیا لال کا سر قلم کر دیا۔یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب شرما کو پیغمبر اسلام کے خلاف ان کے مبینہ بیانات پر بی جے پی سے معطل کر دیا گیا تھا۔ ادے پور کے ایک درزی کا سر قلم کرنے کے واقعہ نے پورے ملک میں عوامی غم و غصہ پھیلا دیا۔ یہ کیس منظر عام پر آنے کے بعد ادے پور کے دھانمنڈی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، لیکن بعد میں 29 جون 2022 کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اسے دوبارہ درج کیا تھا۔

