سی بی آئی نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سے ستیندر جین کے خلاف تحقیقات کی اجازت مانگی

تاثیر،۱۳  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی،13؍نومبر:دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کی مشکلات میں اضافہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ سی بی آئی نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ سے دہلی حکومت کے سابق وزیر ستیندر جین اور تہاڑ جیل کے کئی اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کی اجازت مانگی ہے۔ اس پر جیل کے کئی قیدیوں اور گینگسٹر سکیش چندر شیکھر سے پیسے بٹورنے کا الزام ہے۔ سی بی آئی نے ایل جی کو خط لکھ کر اجازت طلب کی ہے۔ذرائع سے ملی اطلاع کی بنیاد پر سی بی آئی نے اس معاملے میں جانچ شروع کی تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ 10 نومبر کو ایل جی سے تحقیقات شروع کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ خط میں کہا گیا کہ ستیندر جین، جو اس وقت جیل کے وزیر تھے، تہاڑ کے اس وقت کے ڈی جی سندیپ گوئل اور اے ڈی جی مکیش پرساد کے ساتھ مل کر تہاڑ میں بھتہ خوری کا ریکیٹ چلا رہے تھے اور پیسے بٹور رہے تھے۔تہاڑ جیل میں بند سکیش چندر شیکھر سے کروڑوں روپے چھین لیے گئے۔الزام ہے کہ ستیندر جین نے اپنے ساتھیوں کے ذریعے 2018 سے 2021 تک سکیش چندر شیکھر سے 10 کروڑ روپے لیے تھے۔ تہاڑ جیل نمبر 4 کے سپرنٹنڈنٹ راجکمار، جو ڈی جی گوئل کے بہت قریب تھے، سکیش چندر شیکھر سے پیسے بٹور رہے تھے، انہوں نے پے ٹی ایم کے ذریعے بھی پیسے لیے۔ الزام ہے کہ گوئل اور مکیش پرساد نے 2019 سے 2022 کے درمیان سکیش چندر شیکھر سے 12.50 کروڑ روپے بھی لیے۔ بدلے میں وہ تہاڑ جیل میں قیدیوں کو سہولیات فراہم کر رہے تھے۔وہیں، سکیش چندر شیکھر نے ایک بار پھر جیل سے ایک خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے کہ ستیندر جین اور منیش سسودیا جیل میں متوازی نظام چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال پر بھی دھمکی دینے کا الزام ہے۔