حماس کی پانچ روزہ جنگ بندی کے بدلے 70 یرغمالی رہا کرنے کی مشروط پیشکش

تاثیر،۱۴  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

غزہ،14نومبر: غزہ میں برسرِ اقتدار رہنے والی تنظیم حماس کے عسکری دھڑے القسام بریگیڈ نیپانچ روزہ جنگ بندی کے بدلے اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے 70 شہریوں کی رہائی کی مشروط پیشکش کی ہے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق القسام بریگیڈ نے پیر کو ایک آڈیو پیغام جاری کیا جس میں اس کے ترجمان ابو عبیدہ کا کہنا تھا کہ پانچ روزہ جنگ بندی کے دوران لڑائی مکمل طور پر بند ہونی چاہیے اور اس دوران امداد اور انسانوں کی زندگی بچانے کا سامان غزہ کے ہر علاقے میں پہنچنے دیا جائے۔القسام بریگیڈ کے مطابق اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر کو اس پیشکش سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔حماس کے عسکری ونگ نے آڈیو پیغام میسجنگ پلیٹ فارم ’ٹیلی گرام‘ پر اپنے چینل پر جاری کیا ہے۔القسام بریگیڈ کے مطابق اس پانچ روز جنگ بندی معاہدے میں تاخیر یا اس سے فرار کی قیمت اسرائیل کو چکانا پڑے گی۔بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو یرغمال افراد کی ہلاکت کی پرواہ نہیں ہے۔ جس کی مثال یرغمال بنائی گئی اسرائیلی فوج کی خاتون اہلکار مارکیانو نوا ہے جس نے ایک ویڈیو میں اپنی بازیابی کی اپیل کی تھی لیکن وہ اسرائیل کے فضائی حملے میں ہلاک ہو گئی تھی۔اسرائیلی فوج نے بھی حماس کے قبضے میں موجود خاتون فوجی اہلکار کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ القسام بریگیڈ نے خاتون اہلکار کی اپیل اور بعد ازاں ہلاکت کے بعد کی ویڈیوز جاری کی تھیں۔امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ ثالثی کرنے والے ملک قطر اور امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلی جینس ایجنسی (سی آئی اے) کے ساتھ مل کر یرغمالیوں کی بازیابی کے لیے ایک معاہدے پر کام کر رہی ہے۔اسرائیلی اہلکاروں کی خواہش ہے کہ قطر صرف ثالث کا کردار ادا نہ کرے بلکہ قطری حکام حماس پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے یرغمالیوں کی بازیابی کے لییبھی کردار ادا کرے۔رپورٹ کے مطابق حماس کے پاس 240 سے 250 کے درمیان افراد یرغمال ہیں جن میں زیادہ تر اسرائیلی ہیں۔ البتہ ان میں بعض کے پاس امریکہ، جرمنی سمیت دیگر ممالک کی بھی شہریت ہے۔ 35 افراد ایسے یرغمالی بتائے جا رہے ہیں جو کہ اسرائیل کے شہری نہیں ہیں ان میں بھی زیادہ تر کا تعلق تھائی لینڈ سے ہے۔’واشنگٹن پوسٹ‘ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسرائیل اور حماس میں یرغمالیوں کی رہائی کے باقاعدہ معاہدے کا امکان ہے۔ اسرائیل کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا ہے کہ معاہدے کے تحت زیادہ تر خواتین اور بچوں کو رہا کیا جائے گا اور یہ معاہدہ چند دن میں سامنے آ سکتا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حماس اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرے گا جب کہ دوسری جانب اسرائیل کی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین، بچے اور کم عمر افراد رہا کیے جائیں گے۔اسرائیل کی خواہش ہے کہ اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے تمام 100 افراد کو رہا کر دیا جائے۔ البتہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ تعداد کم ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ابتدائی طور پر 70 خواتین اور بچوں کی رہائی پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔معاہدے کے تحت اسرائیل کی جیلوں سے ممکنہ طور پر رہا کیے جانے والے خواتین اور بچوں کی تعداد معلوم نہیں ہے۔’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق عرب حکام کا کہنا ہے کہ لگ بھگ 120 خواتین اور بچے اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں تاہم اس تعداد کا درست اندازہ نہیں ہے۔واضح رہے کہ حماس کے سات اکتوبر کو اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر زمین، فضا اور بحری راستوں سے غیر متوقع حملے میں اسرائیلی حکام کے مطابق لگ بھگ 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔حماس نے اس حملے کے دوران 230 سے زائد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جو اب بھی اس کی تحویل میں ہیں۔حماس کے مطابق ان مغویوں میں سے بعض اسرائیل کے حملوں میں ہلاک بھی ہوئے ہیں۔اسرائیل کی جوابی کارروائی کے طور پر غزہ پر مسلسل بمباری کے سبب حماس کے زیرِ انتظام غزہ کے طبی حکام کے مطابق 11 ہزار سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں ساڑھے چار ہزار بچے اور تین ہزار سے زائد خواتین شامل ہیں۔