تاثیر،۱۴ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
اسلام آباد،14نومبر: سلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں کرنے کو روکتے ہوئے حکم امتناعی جاری کر دیا ہے۔منگل کے دن عدالت کا کہنا تھا کہ بادی النظر میں جیل ٹرائل سے متعلق جاری ہونے والے نوٹیفکیشن ہائیکورٹ کے متعلقہ رولز کے مطابق نہیں ہیں۔ عدالت نے عمران خان کے خلاف جیل ٹرائل کرنے سے متعلق تمام ریکارڈ جمعرات کو طلب کر لیا ہے۔یہ حکم امتناعی منگل کے دن جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی انٹراکورٹ اپیل کی سماعت کے دوران دیا۔اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں سنگل بینچ عمران خان کی اس درخواست کو مسترد کر چکا ہے جس کیخلاف سابق وزیر اعظم نے انٹرکورٹ اپیل دائر کی تھی۔منگل کے دن جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے عمران خان کی انٹرکورٹ اپیل کی سماعت کی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ نے اس مقدمے کا ٹرائل جیل میں کرنے کی منظوری دی ہے اور جلد ہی اس ضمن میں نوٹیفیکیشن عدالت میں پیش کر دیا جائے گا۔اس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ وہ پہلے نوٹیفکیشن دیکھیں گے کہ اس میں کیا لکھا ہوا ہے۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’خاندان کے چند افراد کو سماعت میں جانے کی اجازت دینے کا مطلب اوپن کورٹ نہیں۔‘انھوں نے کہا کہ ’جس طرح سے سائفر کیس میں فرد جرم عائد کی گئی اسے بھی اوپن کورٹ کی کارروائی نہیں کہہ سکتے۔‘ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’تمام ٹرائلز اوپن کورٹ میں ہوں گے، اس طرح تو یہ ٹرائل غیر معمولی ٹرائل ہو گا۔‘انھوں نے کہا کہ ’عدالت جاننا چاہتی ہیکہ ایسے کیا غیر معمولی حالات تھے کہ یہ ٹرائل اس طرح جیل میں چلایا جا رہا ہے؟‘جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے ہمیں بتانا ہے کہ دراصل ہوا کیا ہے؟‘ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وہ تمام متعلقہ اداروں سے ریکارڈ لیکر عدالت کے سامنے رکھ دیں گے۔بینچ کے سربراہ نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ’کب کن حالات میں کس بنیاد پر یہ فیصلہ ہوا کہ سائفر مقدمے کا جیل ٹرائل ہو گا۔‘عمران خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ پانچ گواہ اس وقت بھی جیل میں بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے موجود ہیں۔جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’بہت سے سوالات ہیں جن کے جوابات دینے کی ضرورت ہے۔‘انھوں نے کہا کہ ’وفاقی کابینہ نے دو دن پہلے جیل ٹرائل کی منظوری دی۔ کیا وجوہات تھیں کہ وفاقی کابینہ نے جیل ٹرائل کی منظوری دی؟‘جسٹس حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’سب سے اہم سوال یہ ہے کہ منظوری سے پہلے ہونے والی عدالتی کارروائی کا سٹیٹس کیا ہو گا؟‘انھوں نے کہا کہ ’دستاویزات کے مطابق اے ٹی سی جج کی تعیناتی ایگزیکٹو نے شروع کی۔‘ انھوں نے سوال کیا کہ ’کیا اس ضمن میں چیف جسٹس سے رائے لی گئی؟‘انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کی سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کیس کا ٹرائل بھی جیل میں ہوا تھا لیکن وہاں بی بی سی اور تمام صحافیوں کو کوریج کی اجازت تھی۔‘انھوں نے کہا کہ ’وہ بھی سابق وزیراعظم کا ٹرائل تھا، یہ بھی سابق وزیراعظم کا ٹرائل ہے۔‘جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اٹارنی جنرل صاحب شاید میں زیادہ بول رہا ہوں، ایک جج کو زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے۔‘ عدالت نے انٹراکورٹ اپیل کی سماعت سولہ نومبر تک ملتوی کر دی۔

