تاثیر،۱۴ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
بہار میں ایم وائی (مسلم یادو) کے سیاسی تانے بانےکو مضبوطی کے ساتھ برقرار رکھنے کے لئے راشٹریہ جنتا دل مسلسل جد وجہد کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، لوک سبھا انتخابات 2024 سے پہلے، بی جے پی بھی بہار کے 14 فیصد سے زائد یاد و رائے دہندگان کےووٹ بینک میں اپنی جڑیں جمانے کی کوشش کر رہی ہے۔اس کوشش کی کڑی کے طور پر بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے کی طرف سے کل 14 نومبر کو گووردھن پوجا کے موقع پر’’ یادوونشی سماگم‘‘ کا انعقادپٹنہ کے باپو آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس پروگرام میں 20 ہزار سے زیادہ’’ یدوونشیوں‘‘ کو رکنیت دے کر پارٹی سے جوڑا گیا ۔دعویٰ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس ’’ یدوونشی سماگم‘‘ کے بعد سےآر جے ڈی سے تعلق رکھنے والے سبھی یادو لیڈر بی جے پی کا حصہ بن جائیں گے۔
بی جے پی کا دعویٰ اگر درست ہے تو ظاہر ہے یہ صورتحال آر جے ڈی کے لیے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں ہے۔بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی کے بیشتر یادو لیڈر اس پروگرام کو لے کر سرگرم تھے۔ نتیانند رائے بنیادی طور پر اس پروگرام کو ترتیب دے رہے تھے۔ اس کوشش میں بی جے پی کے سینئر لیڈر نول کشور یادو بھی پیش پیش تھے۔رام صورت رائے بھی اس پروگرام میں ایک فعال کردار ادا کرتے نظر آ رہے تھے۔اس پروگرام کے لئے بی جے پی کے ذریعہ جاری پوسٹر میں نند کشور یادو، رام کرپال یادو اور اشوک یادو جیسے بی جے پی سے وابستہ بڑے لیڈروں کو جگہ دی گئی تھی۔درحقیقت، بہار کی 40 لوک سبھا سیٹوں میں سے 10 پر یادو ووٹوں کا فیصلہ کن کردار مانا جاتا ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ ان سیٹوں پر مضبوط ہے۔ ایسی سیٹوں میں ارریہ، کشن گنج، کٹیہار، مدھے پورہ سیٹیں شامل ہیں۔
درحقیقت بہار میں راجد سپریمو لالو ہرساد یادو کی ایک بار پھر بڑھتی ہوئی سیاسی سرگرمیوں اور یادو ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی ان کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے ان کے قلعے کو ہی مسمار کرنے کے لئے ان یادو لیڈروں کو میدان میں اتارا ہے۔اس کے لئے گووردھن پوجا کے موقع کے کو غنیمت سمجھا گیا۔مقصد تھا بی جے پی سے بڑے پیمانے پر یادو سماج کے جڑنے کا پیغام بہار کی سیاسی جماعتوں تک پہنچے۔ اس پروگرام کے بارے میں نند کشور یادو نے دعویٰ کیا تھا یہ ایک بڑا پروگرام ہوگا ،جس میں یادو لیڈروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد بی جے پی میں شامل ہوگی۔انھوں نے اعلانیہ طور پر یہ بھی کہا تھا کہ ہم کرشن کی سنتان ہیں ہماری لڑائی کنس ہے۔ وہ اشارے اشارے میں راشٹریہ جنتا دل کو کنس کی سینا بتانا چاہ رہے تھے۔
گوردھن پوجا کے موقع پر منعقد اس ’’ یدوونشی سماگم‘‘ کے سلسلے میں سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس کےذریعہ بی جے پی کا بنیادی مقصد اپنے طاقتور لیڈروں کے ذریعے یادو ووٹوں کو توڑنے کے لیے ایک پلیٹ فارم تیار کرنا ہے۔ اس عمل کے ذریعے بی جے پی عام لوگوں میں اپنی قبولیت قائم کرنا چاہتی ہے۔حالانکہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے تناظر میں’’ یدوونشی سماگم‘‘ کے ذریعہ عظیم اتحاد کو دیا گیا چیلنج کتنا کار گر ہوگا یہ آنے والے وقت میں ہی معلوم ہوسکے گا۔ ویسے ’’ یدوونشی سماگم‘‘ کے انعقاد کے سلسلے میںیہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ صرف عظیم اتحاد کو بی جے پی کا چیلنج ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعہ پارٹی کے ریاستی لیڈر اپنی حکمت عملی سے اعلیٰ کمان توجہ اپنی جانب مبذول بھی کرانا چاہتے ہیں۔
اِدھر یہ بھی چرچا ہے کہ بی جے پی اب یادو ووٹوں کے ساتھ پسماندہ طبقے اور دلت ووٹوں کے لئے بھی سخت محنت کر رہی ہے۔ بی جے پی کے اندر یہ سوچ بھی چل رہی ہے کہ یادو کے ووٹ تو لالو یادو کے پاس ہی رہیں گے۔ اس لیے اس سلسلے میںزیادہ سر کھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔اس کے علاوہ بر سبیل تذکرہ یہ شکایت بھی ہو رہی ہے کہ بی جے پی میں اب یادو لیڈر وں کی کوئی خاص قدر و قیمت نہیں رہ گئی ہے۔ یہاں تک کہ مرکزی وزیر اور سابق ریاستی صدر نتیا نند رائے بھی اب اتنے مضبوط نہیں رہ گئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب بی جے پی نے انہیں بہار کا ریاستی صدر بھی بنایا تھا، لیکن یہ بھی یادو ووٹوں کو بی جے پی کی جھولی میں سمیٹنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ آج کی صورتحال یہ ہے کہ یادو برادری کو پارٹی تنظیم میں صرف ایک عہدہ دیا گیا ہے۔ پسماندہ طبقے کی کشواہا برادری سے تعلق رکھنے والے سمراٹ چودھری کو پارٹی کی بہار یونٹ کے صدر کاعہدہ ملا ہے۔ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی کرسی اعلیٰ ذات کے لیڈر کو دی گئی۔ انتہائی پسماندہ طبقے کو قانون ساز کونسل میں اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کی کرسی ملی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ بہار میں ذات کی بنیاد پر ہوئے سروے کے مطابق یادوؤں کی آبادی 14 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس سے ووٹروں کی ایک بڑی اور فیصلہ کن تعداد کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ویسے بھی بی جے پی کے اندر بہت سے یادو لیڈر ایسے ہیں، جنھوں نے لالو پرساد یادو کی سرگرم سیاست میں رہتے ہوئے انتخابات جیتے رہے ہیں۔ ایسے لیڈروں میں نتیا نند رائے، اشوک یادو، اوم پرکاش یادو، نند کشور یادو، رام صورت رائے جیسی اہم شخصیات شامل ہیں۔ ایسے میں جب تقریباََ تمام سیاسی جماعتیں’’ یوم پیدائش‘‘ اور’’ یوم وفات‘‘ کے بہانے ووٹ بٹورنے کی کوشش کر رہی ہیں، بی جے پی نے ایک نئی چال چلی ہے۔ براہ راست پارٹی کے نشانے پرراشٹریہ جنتا دل ہے۔حالانکہ چند سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی اعلیٰ کمان کو یہ احساس ہے کہ لالو پرساد یادو کے سیاسی طور پر سرگرم رہتے ہوئے ایم وائی (مسلم یادو) کے سیاسی تانے بانے کو توڑ کر’ وائی‘ کو الگ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
*************

