تاثیر،۲۳ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
آہ۔۔۔۔۔امام اعظم، محبوب حقیقی سے جاملے، تیری خوشبو سے معطر ہے زمانہ سارا۔۔۔۔لوٹ گیے آخری آرامگاہ کےلیے, اردو دنیاءے صحافت ادب اور تعلیم و تدریس کا بڑا خسارہ،انکے خدمات نہیں بھلاءے جا سکتے: ڈاکٹر محمد گوہر، ایم اے فردین, ڈاکٹر اے کے علوی
خصوصی رپورٹ/ کہہ گیے ڈاکٹر امام اعظم۔۔۔۔ میں نے سمجھا،اس نے سمجھا،بھیڑ میں بھی خاموشی تھی، کسے معلوم تھا کہ آج اردو دنیائے زبان وادب اور صحافت کا امام اعظم خود یہ کہہ جاءینگے اور اسطرح سے ڈاکٹر امام اعظم ہم سبھوں کو الوداع کہہ گیے اور اردو دنیاءے ادب و تعلیمی خدمات انجام دیتے دیتے ہمیشہ کے سو گیے داستاں کہتے کہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہماری ملاقات گرچہ ڈاکٹر محمد گوہر صاحب ایڈیٹر ان چیف تاثیر کے دورہ کلکتہ کے موقع پر تشریف لائے تو میں نے ڈاکٹر محمد گوہر صاحب کا استقبال کرتے ہوئے ہماری پہلی کتاب پی ایچ ڈی کرنے کے بعد پرورشِ لوح و قلم ڈاکٹر امام اعظم صاحب اور ڈاکٹر محمد گوہر، محمد شہاب الدین بھانجا نے ڈاکٹر امام اعظم صاحب کے اعتراف خدمات کے لئے آل انڈیا اردو ماس کمیونیکیشنل سوسائٹی فار پیس کی جانب سے انہیں اردو انمول رتن ایوارڈ سے بھی نوازے گئے، بہت پرسکون پروفیسر ڈاکٹر امام اعظم تھے وہ اپنے سادگی اور انکساری کا مثال رکھتے تھے اور ہر ایک شخص سے خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے میں جب کبھی کلکتہ دورہ پر رہا ہواد کرتا تو امام اعظم صاحب سے ایک ملاقات ضرور ہوتا تھا، ڈاکٹر محمد گوہر کا ذکر کرتے تھے اور بلخصوص تاثیر اخبار کے لیے بھی ڈاکٹر امام اعظم صاحب اور ڈاکٹر مختار احمد فردین نے بہت زیادہ پروموٹ کرنے میں پیش پیش رہے اور آج ڈاکٹر امام اعظم صاحب اس سفر اردو زبان وادب اور تعلیم کی خدمات انجام دیتے ہوئے ہم سبھوں کو چھوڑ گیے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے آمین ڈاکٹر امام اعظم صاحب پر تفصیلات میں نے سوشیل میڈیا سے بشکریہ آپکی معلومات کے لئے اس تعزیتی پیام میں ریفرنس کے لئے اخذ کیا ہوں، بشکریہ
“آج ٢٣/نومبر اردو دنیا کے لیے بہت افسوس ناک دن ہے اسلیے کے…آہ امام اعظم کی رحلت کی خبر سن کر دل اداس ہے, اللہ ان کی مغفرت فرمائے آمین
اردو دنیا کےمعروف ، شاعر ، ادیب ، مدیراور صحافی ڈاکٹر امام اعظم کا یوم وفات ہے
اصل نام سید اعجاز حسن امام اعظم قلمی نام امام اعظم 20 جولائی 1960ء کو محلہ گنگوارہ دربھنگہ بہار میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام محمد ظفر المنان ظفر فاروقی ہے ۔ان کی تعلیم ہے ایم ایے( اردو، فارسی)،ایل ایل بی، پی ہچ ڈی، ڈی لٹ ہے
وہ مشہور ادبی جریدہ ’’تمثیلِ نو‘‘ ( دربھنگہ ) کے مدیر اعزازی ہیں عرصہ تک آکاشوانی دربھنگہ کے پروگرام مشاورتی بورڈ کے ممبر (۱۹۹۵ء سے ۲۰۰۱ء ) رہ چکے ہیں۔ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان ، نئی دہلی کے لٹریچر پینل کے سابق رکن اور گرانٹ اِن ایڈ کے رکن بھی ہیں نیز کئی ادبی ، سماجی اور تعلیمی اداروں سے وابستہ ہیں۔ ان کی نثری و شعری تخلیقات ادب کے مقتدر و مؤقر رسائل و جرائد کی زینت بنتی رہتی ہیں وہیں آکاشوانی سے براڈ کاسٹ اور دور درشن سے ٹیلی کاسٹ ہوتی ہیں نیز وہ قومی و بین الاقوامی سیمیناروں میں بھی شرکت کرتے رہتے ہیں۔ ڈاکٹر ایم صلاح الدین ‘ دربھنگہ نے ان کے فن اور شخصیت پرایک کتاب ’’ڈاکٹر امام اعظم : اجمالی جائزہ ‘‘ تصنیف کی ہے ‘جس میں ڈاکٹر امام اعظم کے آباو اجداد کے تفصیلی ذکر کے ساتھ ساتھ ان کی حیات ، مشاہیر علم و ادب سے ملاقات اور ان کے تاثرات نیز ان ڈاکٹر امام اعظم کے کلام کا انتخاب بھی شامل کیا ہے۔ پروفیسر سرور کریم( صدر شعبہ اردو آر این آر کالج سمستی پور) کی ترتیب و تالیف ’’ عہدِ اسلامیہ میں دربھنگہ : تحلیل وتجزیہ ‘‘ جو امام اعظم کے تاریخی کاموں کا احاطہ کرتا ہے، منظر عام پر آچکی ہے۔ یونیورسٹی کے پی جی شعبۂ اردو میں یو جی سی ریسرچ ایسوسی ایٹ ہوئے ۔ پھر نومبر 1996ء میں بہار اسٹیٹ یونیورسٹی سروس کمیشن پٹنہ کے ذریعہ لیکچرار مقرر ہوئے۔ ایل این متھلا یونیورسٹی میں ان کے زیرِ نگرانی 3؍اسکالروں کو پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی جا چکی ہے۔

4؍جولائی 2005ء تا 15؍ مارچ 2012ء مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ریجنل سینٹر دربھنگہ (شمالی بہار) کے بانی ریجنل ڈائریکٹر ،26؍ مارچ تا 2؍ اپریل 2012ء پٹنہ کے ریجنل ڈائریکٹر ، 4؍ اپریل 2012ء تا حال کولکاتا (مغربی بنگال ) کے ریجنل ڈائریکٹر ہیں۔
ان کی اب تک کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں
۔ (1)نصف ملاقات ( مرحوم مشاہیرِ ادب کے خطوط) ترتیب -1994ء(2)قربتوں کی دھوپ
( شعری مجموعہ )-1995(3)مظہر امام کی تخلیقات کا تنقیدی مطالعہ (تنقید وتحقیق)
199 (4)نئے علاقے (ہندی سے اردو ترجمہ)
ساہتیہ اکیڈمی-200۔(5)اقبال انصاری : فکشن کا سنگِ میل (ترتیب)-2003ء (6)مولانا عبد العلیم آسی تعارف اور کلام (ترتیب)-2003ء(7)گیسوئے تنقید (ادبی مضامین)-2008ء۔(8)درپن ( اردو یونیورسٹی کا تعارفی کتابچہ) 2008ء(8)عہد اسلامیہ میں دربھنگہ اور دوسرے مضامین (تاریخ)
ترتیب-2009ء(9)عبد الغفور شہباز (ہندوستانی ادب کے معمار)مونو گراف-2011ء
(10)گیسوئے تحری (ادبی مضامین)-2011ء
(11)ہندستانی فلمیں اور اردو (ادبی جائزے) ترتیب-2012 (12)تجدیدِ حیات-1990ء
(13)نیا سفر نخل نرگس 2000ء(14)حنازارِ شوق2000ء(15)رنگِ گلہائے چمن 2007ء
(16)تہنیتی نظموں کے گلدستے (ترتیب )
( 17)فاطمی کمیٹی رپور (تجزیاتی مطالعہ)-ترتیب
(18)اردو شاعری میں ہندوستانی تہذیبیں(کثرت میں وحدت کا اظہار)(19)نیلم کی آواز(شعری مجموعہ)(20)پہلی جنگِ آزادی میں اردو زبان کا کردار (ترتیب) “
آج اردو دنیائے ادب و صحافت کے لیے بہت افسوس بھرا دن ہے اور تعزیتی پیغام میں اظہار خیال کرتے ہوئے آنکھیں نم ہیں کہ
ڈاکٹر محمد گوہر صاحب ایڈیٹر ان چیف تاثیر، ڈاکٹر مختار احمد فردین، ڈاکٹر اے کے علوی نے اپنے تعزیتی پیغام میں ڈاکٹر امام اعظم صاحب کے خدمات اور انکے مشن کو جاری و ساری رکھنے میں قاءرین تاثیر کے ساتھ ملکر انکی یادوں کے أوراق سے۔۔۔۔۔۔خراج پیش کرتے ہیں اور انکے خدمات کو مدتوں ہم نہیں بھلا سکیں گے، اسلیے کے محبت کرنے والا شخص اب جا چکا ہے اور انکی یادوں کی خوشبوؤں کو محسوس کر سکتے ہیں جو خود اپنی زندگی میں کہہ گیے کہ
۔۔۔۔۔۔۔تیری خوشبو سے معطر ہے زمانہ سارا

