تاثیر،۲۳ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
موجودہ عہد میں بین المذاہب مکالمہ کی بے حد ضرورت ہے۔ بعض غلط فہمیوں کا ازالہ صرف اس لئے نہیں ہوپاتا کیونکہ مکالمہ کی فضا سازگار نہیں ہوپاتی۔آج وطن عزیز بھارت سمیت دنیا میں جہاں بھی مذہبی منافرت کا وجود ہے، اس کی بنیادی وجہ عدم مکالمہ او رمذہبی تعلیمات کی افہام و تفہیم کا نہ ہونا ہے۔مسلمانوں نے اس راہ میں بہت کوششیں کی تھیں، مگر بہت جلد فرقہ وارانہ، ذات پات او رمسلکی مسائل نے انہیں ادیان و مذاہب کی افہام وتفہیم سے دور کردیا۔ مسلمانوں نے مسلکی امتیازات کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تکفیر کے فتوے دے دیئے، جس کا خمیازہ آج تک عالم اسلام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہونا یہ چاہئے کہ ایک مسلک دوسرے مسلک کے نظریات کو بنام امتیازات پیش کرتا، اور اس کی افہمام و تفہیم کی صحیح کوشش کی جاتی۔بے جا تنقید اور تنقیص اہل علم و فکر کے لئے مناسب نہیں ہے۔
ہر مذہب میں کچھ آسمانی والہامی کتابیں موجود ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ایک مذہب کی الہامی کتاب کو دوسرا مذہب تسلیم نہیں کرتا ہے، لیکن ہر مذہب اس بات کا مدعی ہے کہ اس کی تعلیمات حق پر مبنی ہیں۔ اس لئے ہر مذہب کی الہامی کتابوں کامطالعہ اور اس کی تعلیمات کی آفاقیت کو سمجھنا اہل علم و فکر کے لئے ضروری ہے۔ اگر ہم حق کے متلاشی افراد کے سوالات کے تسلی بخش جوابات نہیں دے سکتے تو پھر ہمیں ان سے بے جا او ربے نیتجہ مباحثہ بھی نہیں کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ اکبر نے مذہبی و مسلکی مسائل میں بحث و مباحثے کے لئے عبادت خانہ کا قیام کیا تھا۔ گویا اس کے نزدیک ادیان و مذاہب اور فرق و مسالک کے نظریات کی افہام و تفہیم عبادت سے کم نہیں تھی۔ مسلمان علماء کے درمیان ہونے والے مباحثے جب مجادلو ں میں بدل گئے تو اس نے مختلف مذہبوں کے علماء کو عبادت خانہ میں مباحثے کے لئے دعوت دی۔بھارت میں یہ پہلا ایسا موقع تھا کہ جب اسلام کے علاوہ دیگر ادیان و مذاہب کی تعلیمات کے لئے کوئی اہم مرکز قائم کیا گیا تھا۔ گوکہ اکبر کے عہد میں ہی یہ مرکز بے راہ روی کاشکار ہوگیا۔ اگر عبادت خانہ میں مسلمان علماء فکری بے راہ روی کاشکار ہوکر مناظروں کو مجادلو ں میں نہ بدلتے تو شاید’ دین الہٰی ‘کا نظریہ جنم ہی نہیں لیتا۔
عبادت خانہ کے مباحثوں میں مسلمان صرف ا س لئے عیسائیوں سے شکست کھاتے رہے کیونکہ انہوں نے بائبل کامطالعہ نہیں کیا تھا،جبکہ عیسائی لاطینی زبان میں قرآن کامطالعہ کرچکے تھے۔ یعنی عہد اکبری تک بائبل فارسی اور عربی زبان میں منتقل نہیں ہوئی تھی۔ او راگر ترجمہ موجود تھا توبھارت کے علماء کی دسترس میں نہیں تھا۔ اس وقت تک شاہی کتب خانہ میں بھی بائبل موجود نہیں تھی، اس لئے عیسائی بائبل کی تعلیمات پرجو استدلال قائم کررہے تھے، مسلمان علماء ان سے لاعلم ہونے کی بنا پر عیسائیوں کے سوالات کے معقول جوابات دینے سے قاصر رہے۔ عیسائی پادریوں کاپہلامشن جو وقت دربار اکبری میں وارد ہوا، انہو ں نے سب سے پہلے بادشاہ کی خدمت میں عبرانی، یونانی اور لاطینی زبان میں بائبل پیش کی۔ اکبر نے بائبل کو فارسی میں منتقل کرنے کی ذمہ داری ابوالفضل کے سپرد کی، مگر یہ ترجمہ 1609 ء میں جہانگیر کے عہد میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔
1671 ء میں بائبل کا عربی ترجمہ بھارت پہنچا، جس سے مسلمانوں نے بخوبی استفادہ کیا۔ یعنی عہد اکبر ی تک مسلمان بائبل کی تعلیمات سے بے بہرہ تھے۔ خانقاہی نظام نے ان کے ذوقِ جستجو کو ہی ختم کردیا تھا۔ اکبرکے عہد میں ادیان مذاہب کی افہام و تفہیم اور دیگر زبانوں کی کتابوں کے ترجمہ کے لئے دارالمطالعہ کا قیام بھی عمل میں آیا۔ مہابھارت، بائبل، سنگھاسن بتیسی، حیوۃ الحیوان، اتھروید (چوتھا وید) مہابھارت (مقدمہ بقلم ابوالفضل) رامائن، لیلاوتی (حساب کی معروف کتاب) کلیلہ ودمنہ، تاریخ کشمیر ( سنسکرتمیں لکھی گئی تھی، جسے اکبر نے کشمیرکے سفر کے دوران دیکھا او رترجمہ کی ہدایت کی)، تزک بابری، جامع رشیدی، بحر الاسمار، تاجک (ہندوستان میں علم نجوم کی معتبر کتاب)، ہر بنس (کرشن جی کے حالات پر مبنی کتاب) اور معجم البلدان جیسی دوسری اہم کتابوں کے ترجمے کروائے گئے۔ تاریخ نویسی کے لئے مورخین کا بورڈ قائم کیا، جس کے تحت تاریخ الفی اور دیگر کتابیں لکھی گئیں۔
اکبر کے بعد بھی دیگر علوم وفنون کی کتابوں کے ترجمے منظر عام پر آتے رہے۔ موجودہ عہد میں بھی ترجمہ کافن ناپید نہیں ہوا ہے بلکہ اچھے اور معنی خیز تراجم سامنے آرہے ہیں، لیکن مدرسوں میں یہ سلسلہ تھم سا گیا ہے۔ مدرسوں میں اسلام کے علاوہ دیگر ادیان و مذاہب کے مطالعہ کے نظام کا فقدان ہے۔ روشن فکری کے لئے ضروری ہے کہ انسان دوسرے فرقے و مذاہب کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرے۔ یاد رہے، ہمارے علمائے کرام بیک وقت چاروں فقہوں کے عالم ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ مروجہ علوم پر ان کی گہری نگاہ ہوتی تھی۔ گوکہ ایک انسان بیک وقت تمام علوم و فنون میں مہارت حاصل نہیں کرسکتا، لیکن مروجہ علوم، وفنون سے یکسر ناواقفیت بھی اچھی بات نہیں ہے۔یہ ناواقفیت انسان کو نئے زمانے کے تقاضوں او رعلمی وسماجی پیش رفت سے بے خبر بنا دیتی ہے۔ بے خبری کی بنا پر ہی وہ بدلتے ہوئے زمانے او رعلمی و سماجی ترقیات کا مخالف ہوجاتا ہے۔
آج بھی ہمیں ایسے علمائے کرام اور دانشورحضرات کی ضرورت ہے جو دوسرے مذاہب کے ساتھ مکالمہ قائم کرسکیں، جو ان کی الہامی تعلیمات کا علم رکھتے ہوں۔ ملت کو آج بھی علماء پر اعتماد ہے، لیکن اس اعتماد کی برقراری کے لئے علما ئے کرام کو مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔ نزاعی مباحث کو درکنار کرکے خالص علمی بحثوں کا آغاز کرنا ہوگا۔ قرآنی تعلیمات اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو عالمی سطح پر متعارف کرانا ہوگا۔بعض غلط فہمیوں کا ازالہ جیسے جیسے ہوگا، یقیناََ ویسے ویسے حالات بدلیں گے، لیکن حالات بدلنے کے لئے پہلے ہمیں مخلصانہ جدوجہد کرنا ہوگی۔

