تاثیر،۲۵ نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی توجہ ان دنوں اپنے منصبی فرائض کی تکمیل کی جانب پوری طرح مرکوز ہے۔ وہ اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ سے متعلق سرگرمیوں سے تقریباََ لا تعلق ہو گئے ہیں۔حالانکہ نتیش کمار نے ہی اپوزیشن اتحاد کی مہم شروع کی، کئی پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا، کئی میٹنگوں کے بعد’’ انڈیا‘‘ اتحاد کی تشکیل بھی ہو گئ، لیکن آج تک انہیں کوئی بڑی ذمہ داری نہیں ملی ہے۔اس درمیان وہ اشارے اشارے میں یہ کہہ بھی چکے ہیں کہ کچھ لوگوں کے پاس اپوزیشن اتحاد کے لئے کام کرنے کا وقت نہیں ہے۔ وہ اپنی سہولت سے اس کی جانب توجہ دیں گے۔اس بات سے جو صورتحال سامنے آئی ہے اس کے پیش نظر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھلے ہی نتیش کمار کئی بار کھل کر یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں،انھیں کسی عہدے کا لالچ نہیں ہے، لیکن پچھلے کچھ دنوں سے جب یہ نعرہ لگایا جاتا ہے کہ ’’ملک کا لیڈر کیسا ہو، نتیش کمار جیسا ہو‘‘ تو وہ سن کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ نتیش کمار کے اس بدلے ہوئے اس رویہ کو سیاست کے ماہرین اپنے اپنے حساب سے نام دینے میں مصروف ہیں۔
دوسری جانب حال میں کئی ایسے کام کئے ہیں، جن کے ذریعے یہ اشارے ملتے رہے ہیں کہ وہ ان کاموں کو اپنی کامیابیوں میں شمار کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس کیے گئے کاموں کی ایک لمبی فہرست ہے۔اس کے باوجود وہ شب و روز بہار کے لئے کچھ نہ کچھ کرتے رہنے سے نہیں رکتے ہیں۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ 2024 کے انتخابات سے قبل نتیش کمار دوبارہ کچھ بڑا کرنے کی تیاری کر سکتے ہیں۔ تاہم سیاسی پنڈت بھی ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آنے والے انتخابات میں اپوزیشن ’’انڈیا‘‘ کا سیاسی تانا بانا کیا ہوگا اور کتنی سیٹیں کس کے حصے میں آئیں گی۔ ویسے بھی سیاست میں کہا جاتا ہے کہ یہاں کچھ بھی ممکن ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار گزشتہ جمعرات یعنی23 نومبرکو راجگیر پہنچے تھے۔ وہاں حامیوں نے اپنے لیڈر کی حمایت میں خوب نعرے لگائے ۔ نعروں میں ایک نعرہ یہ بھی تھا’’ملک کا لیڈر کیسا ہو، نتیش کمار جیسا ہو‘‘ ، لیکن وہ سن کر خاموش رہے۔ ایسا پہلے بھی کئی بار ہو چکا ہے اور وہ ایسے نعرے لگانے سے منع کرتے رہے ہیں۔
نتیش کمار کے اس بدلے ہوئے مزاج کی بنیاد پر سیاسی حلقوں میں قیاس آرائی کا بازار گرم ہے کہ اپنے اقدامات کے ذریعے سی ایم نتیش کمار نہ صرف اپنے حق میں تشہیر کریں گے بلکہ اپنے ایکشن سے اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ پر غلبہ حاصل کر نے کی کوشش بھی کر سکتے ہیں۔ سیاسی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ نتیش کمار نے اب تک جتنے بھی کام کئے ہیں، ان کا انہیں انتخابات میں ضرور فائدہ ہوگا۔ ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ نتیش کمار بھی اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ میں اپنی کامیاب کارکردگی کی بنیاد پر اپنی بر تری ثابت کر سکتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ 2اکتوبر 2023 کو بہار میں کاسٹ بیسڈ مردم شماری کی رپورٹ جاری کی گئی۔ اس کے بعد اعداد و شمار سامنے آئے کہ کتنے لوگ کس ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ اقتصادی سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ کس کے پاس کیا ہے۔ مرکز نے بہار میں کاسٹ بیسڈ مردم شماری کرانے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد نتیش حکومت نے خود ہی اسے کرایا۔ ظاہر ہے اب نتیش کمار اس کا کریڈٹ لیں گے اور انتخابات سے پہلے اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
قابل ذکر ہے کہ فی الحال بہار میں 75 فیصد ریزرویشن نافذ کر دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے اسے آئین کے نویں شڈیول میں شامل کرنے کے لیے مرکز کو تجویز بھی بھیج دی ہے۔ بہار میں ایس سی کو 20 فیصد، ایس ٹی کو 2 فیصد، انتہائی پسماندہ طبقے کو 25 فیصد اور پسماندہ طبقات کو 18 فیصد ریزرویشن ملے گا۔ اس کے ساتھ ہی عام زمرے کے معاشی طور پر کمزور طبقوں کے لیے 10 فیصد ریزرویشن کا انتظام بھی لاگو رہے گا۔ اس کا کریڈٹ نتیش کمار بھی لے رہے ہیں۔اسی تناظر میں کئی بار اپنے پروگراموں میں یا میڈیا سے بات کرتے ہوئے نتیش کما کہہ چکے ہیں کہ ہم لوگ جو کام کرتے ہیں انھیں شائع نہیں کیا جاتا ہے۔ میڈیا پر ایک فریق کا کنٹرول ہے۔ اب وہ مرکز کے خلاف مہم چلائیں گے۔ نتیش کمار نے اعلان کیا ہے کہ وہ دوبارہ بہار کے دورے پر جائیں گے۔ افسران لوگوں کے گھر جا کر پوچھیں گے کہ انہیں اسکیم کا فائدہ مل رہا ہے یا نہیں۔ اس طرح کام کی تشہر کی جائے گی۔
سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار جو کچھ کر رہے ہیں اس کا براہ راست فائدہ انہیں ضرور ملے گا۔ 75 فیصد ریزرویشن کا سہر بھی ا براہ راست نتیش کمار کے سر جائے گا ۔ اگر ریزرویشن کا معاملہ عدالت میں جاتا ہے تب بھی وہ انتخابات میں اس کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ جے ڈی یو کے پاس اس وقت لوک سبھا کی 16 سیٹیں ہیں، لیکن اس بار چیلنج یہ ہے کہ جو سیٹیں ملیں وہ ان کی جھولی میں آ جائیں۔ وہ اس کے لیے تیار ہیں اور جو بھی کام ہو رہا ہے ہوا ہے یا ہونے والا ہے، نتیش کمار کو اس سب کا براہ راست فائدہ ہوگا۔اِدھر جے ڈی یوآج پٹنہ میں بھیم سنسد کا انعقاد کر رہا ہے۔ اس پروگرام کو دلت طبقہ کے وزیر ڈاکٹر اشوک چودھری نے آرگنائزکیا ہے۔ اس میں دلت اور مہادلت برادریوں کے لوگ جمع ہوں گے۔ یہ پروگرام ویٹرنری کالج گراؤنڈ میں منعقد ہوگا۔ نتیش کمار اس کا افتتاح کریں گے۔ دلتوں کو متحد کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نتیش کمار کے پاس دلتوں کی ٹھوس قیادت نہیں ہے۔ جیتن رام مانجھی ان سے الگ ہو گئے ہیں، چراغ پاسوان ایک دلت رہنما ہیں، جو ان کے خلاف ہیں۔ ایسے میں اگر دلتوں کو متحد کرنے میں’ بھیم سنسد‘ کوتھوڑی سی بھی کامیابی ملتی ہے تو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں نتیش کمار کو زبردست حوصلہ ملے گا۔اس پر سب کا اتفاق ہے۔

