فلسطین : مغربی کنارے میں اسرائیلی فائرنگ سے چھ فلسطینی جاں بحق

تاثیر،۲۶  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

بیت المقدس ،26نومبر:فلسطین میں اسرائیل اور حماس کی جانب سے جاری جنگ ک دوران چار روزہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ہے ۔آج جنگ بندی کا دوسرا دن ہے ۔دریں اثنا مغربی کنارے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فائرنگ میں مغربے کنارے چھ فلسطینی شہید ہو گئے ہیں ،
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق ہفتے کے روز غرب اردن میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے چھ فلسطینی جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ان میں سے چار جنین میں، ایک مغربی کنارے کے شمال میں واقع قصبے قباطیہ میں اور ایک فلسطینی جنوبی علاقے البیرہ میں ہلاک ہو گیا۔
وزارت صحت نے ہفتے کی صبح اطلاع دی کہ پچیس سالہ ڈاکٹر شامخ کمال ابو الرب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے قباطیہ قصبے میں جاں بحق ہو گئے۔ وزیر صحت می الکیلا نے بتایا کہ فائرنگ میں ابو الرب کا ایک بھائی زخمی ہوا ہے۔جنین میں بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ شہرمیں گھسنے کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے چار فلسطینی شہید ہو گئے۔حال ہی میں اقوام متحدہ کے مطابق مغربی کنارے میں تقریباً 20 سالوں میں سب سے زیادہ پرتشدد اسرائیلی کارروائی کا مشاہدہ کیا گیا جس میں 14 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد نے ہفتے کی شام جنین شہر پر ایک فوجی بلڈوزر کے ساتھ دھاوا بول دیا۔ اس کے ماہر نشانزد عمارتوں کی چھتوں اور جینن کیمپ کے مضافات میں تعینات کیے گئے جس کے بعد انہوں نے فلسطینیوں پر حملے کیے۔ فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنین کیمپ پر دھاوا بول کر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے غرب اردن کے جنوبی شہر البیرہ میں گولیاں مار کر ایک سولہ سالہ لڑکے کو شہید کر دیا۔ فلسطینی وزارت صحت کے اعداد وشمار کے مطابق سات اکتوبر سے اب تک مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی فائرنگ سے 230 سے زائد فلسطینی جاں بحق اور 2950 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔