آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے جنرل باڈی اجلاس کا انعقاد

تاثیر،۲۶  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

علی گڑھ، 26 نومبر: علم حاصل کرو ماں کی گود سے قبر تک یہ اس وقت کہا گیا جب علم پر چند لوگوں کی اجارہ داری تھی اس میں جو حکمت پوشیدہ تھی کہ آنے والی نسل کیلئے مائیں تعلیم یافتہ ہوں ،۔
ان خیالات کا اظہار صدر جلسہ معروف دانشور پدم شری پروفیسر اختر الواسع نے کیا وہ آج آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی جنرل باڈی کے اجلاس منعقدہ سلطان جہاں منزل علی گڑھ کو خطاب کررہے تھے،انھوں نے بیگم سلطان جہاں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیگم صاحبہ مسلم یونیورسٹی کی پہلی چانسلر تھیں یہ تاریخی سلطان جہاں منزل انہی کے خطیر عطیہ سے تعمیر ہوئی انھوں نے کانفرنس کی منتظمین کی کوششوں کی تائید کرتے ہوئے خواجہ محمد شاہد کے ذیعہ ملک بھر میں چلائی جارہی تعلیمی تحریک کی تائید کی اور کہا کہ اسکو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے اس اہم کام میں آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کو شامل کرنے کی اپیل کی۔انھوں نے کہا کہ آج ہمیں میڈیکل کالج اور انجینئرنگ کالج کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ امت کے اس طبقہ کی تعلیم کی ضرورت کو کس طرح پورا کریں جو غربت کی سطح سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں اور انکو کس طرح مین اسٹریم سے جوڑا جاسکے اس کام کو کانفرنس بخوبی انجام دے سکتی ہے۔
کانفرنس کے آنریری جنرل سیکریٹری پروفیسر رضاء￿ اللہ خاں نے سبھی شرکاء￿ کا خیر مقدم کرتے ہوئے سالانہ رپورٹ پیش کی جس میں سابقہ کاروائی اور مستقبل کے منصوبوں کا اجمالی خاکہ معہ دستوری ترمیمات کے ساتھ پیش کیا جسے منظورکیا گیا۔معروف دانشور خواجہ محمد شاہد نے کہا کہ مسلمانوں میں سائنسی تعلیم کو مذید فروغ دینے کی ضرورت ہے سماجی فلاح وبہبود کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔انھوں نے مذید کہا کہ سرسید احمد خاں مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کو مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی غرض سے قائم کیا تھا،مسلم یونیورسٹی کے قیام میں کانفرنس نے غیر معمولی خدمات انجام دیں،یہ ادارہ سرسید احمد خاں کی ایک اہم یادگار ہے،انھوں نے کہا کہ کانفرنس کے ذریعہ اساتذہ کی ٹرینگ کا ایک خصوصی آن لائن پروگرام شروع کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ ملک بھرکے اساتذہ اس سے مستفیض ہوسکیں ساتھ ہی انھوں نے جدید تکنیک کے استعمال سے متعدد امور پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ آج امت مسلمہ کن مسائل سے دوچار ہے اور اسکو صحیح سمت میں لے جانے کیلئے ہمیں کانفرنس کے ذریعہ کیاکیا اقدامات کرنے چاہیے۔جلسہ کی نظامت کرتے ہوئے معروف استاد ڈاکٹر شارق عقیل نے آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کی خدمات پرر وشنی ڈالی اور کہا کہ کانفرنس موجووہ وقت میں جو کام انجام دے رہی ہے وہ عصرِ حاضر تقاضہ ہے۔اس موقع پر پروفیسر مدیح الرحمن شروانی اور ڈاکٹر آعظم میر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔اجلاس میں خورشید احمد خاں،سید انظار صابری،محمد احمد شیون،پروفیسر صبغت اللہ فاروقی،حاجی انور شاہ، حاجی محمد سفیان،ڈاکٹر ارمان رسول فریدی،عزیز خاں،نورالاکریم،افتخار الدین،راشد مصطفی،اطاعت حسین،ڈاکٹر نور الامین،عبدالقیوم،فرخ،طارق حسین،افضال احمد،سید سبطین نقوی،طارق احمد خان،فرحان محمد خاں، محمد ارشاد،کاشف طارق، ایم افغان خان،جاوید علی،نوید حق،صارم اللہ خان،نادیہ خانم،لویناخانم،فہد غلام،عاطف الزماں خان،ضیاء￿ الحق،احمد سعید خاں،ایم فیروز خان،ڈاکٹر ایم ساقب کے علاوہ علی گڑھ اور بیرون علی گڑھ کے مندوبین نے شرکت کی۔جلسہ کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے جوائنٹ سیکریٹری اسد یار خاں نے سبھی شرکا ء￿ کا شکریہ ادا کیا۔