کانگریس کی اولین ترجیح تلنگانہ سے بی آرایس کاخاتمہ: راہل گاندھی

تاثیر،۲۷  نومبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

حیدرآباد، 27۔ نومبر:کانگریس قائدراہل گاندھی نے الزام عائدکیاکہ نریندرمودی اوروزیراعلی کے سی آرکے درمیان پارٹنرشپ ہیاور دونوں مرکزوریاست میں ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں تاکہ حکومتیں قائم رہیں۔ کانگریس کی اولین ترجیح تلنگانہ سے بی آرایس کاخاتمہ ہے جس کے بعدمرکزسے مودی حکومت کوبیدخل کیاجائیگا۔کانگریس کی انتخابی مہم میں راہل گاندھی نے آج دوسرے دن اسمبلی حلقہ جات اندول،سنگاریڈی اورکاماریڈی میں انتخابی ریالیوں سے خطاب کیا۔راہل گاندھی نے بی آرایس،بی جے پی اورمجلس کوسخت تنقیدکانشانہ بنایا اور کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس نے بی جے پی کاخاتمہ کردیاہے۔بی جے پی قائدین کل تک تلنگانہ میں اکڑکرگھوم رہے تھے لیکن کانگریس نے ان کی ہوا خارج کردی۔بی جے پی کی گاڑی کے چاروں ٹائرپنکچرکرکے بی جے پی کاصفایاکردیا۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی اوربی آر ایس کے ساتھ مجلس بھی مل چکی ہے۔ بی آرایس نے ہرمرحلہ پرلوک سبھامیں مودی حکومت کی تائید کی۔ جی ایس ٹی،نوٹ بندی اورکسان بل کے معاملہ میں کے سی آرنے مودی کی تائیدکی۔ انہوں نے کہا کہ بی آرایس اوربی جے پی میں اٹوٹ بندھن کاپتہ چلانے ای ڈی،سی بی آئی اورانکم ٹیکس پرنظررکھنی ہوگی۔ بی جے پی کے خلاف جدوجہد پر24مقدمات میرے خلاف درج کئے گئے۔راہل گاندھی نے الزام عائدکیاکہ جہاں کہیں کانگریس بی جے پی کے خلاف مقابلہ کرتی ہے وہاں مجلس اپنے امیدوارکھڑاکردیتی ہے۔انہوں نے راجستھان کی مثال پیش کی جہاں مجلس الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجلس کے امیدواروں کاانتخاب بی جے پی سے کیاجاتاہے۔تلنگانہ میں کانگریس بی جے پی، بی آرایس اورمجلس تینوں کوشکست دے گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی ملک میں نفرت کاماحول پھیلا رہے ہیں جبکہ ہندوستان بھائی چارگی کی علامت ہے اور یہاں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔صدرپردیش کانگریس ریونت ریڈی،نائب وزیراعلی کرناٹک ڈی کے شیو کمار اور نظام آباد ( اربن) کے امیدوارمحمدعلی شبیرنے بھی خطاب کیا۔تینوں مقامات پرراہل گاندھی کے جلسوں میں عوام کی کثیرتعداد شریک تھی۔