تاثیر،۵ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
’’میں کانگریس کا مسئلہ سمجھتا ہوں۔ وہ ایک ہی ناکام پروڈکٹ کو برسوں تک لانچ کرتی رہتی ہے۔ ہر بار لانچ ناکام ہو جاتی ہے اور اب نتیجہ یہ ہے کہ ووٹروں کے تئیں ان کی نفرت بھی ساتویں آسمان پر پہنچ گئی ہے۔‘‘گزشتہ 10 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے عدم اعتماد کی تحریک کے دوران پارلیمنٹ میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے بارے میں یہ بات کہی تھی۔
دراصل، یہ اس لیے کہا جا رہا ہے کہ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں جب راہل گاندھی کانگریس کے صدر تھے۔ اس وقت پارٹی کچھ زیادہ نہیں کر سکی تھی۔ اس کے علاوہ کئی ریاستوں میں ہوئے انتخابات میں یا تو کانگریس حکومت کو شکست ہوئی یا اپوزیشن میں رہنے کے باوجود وہ وہاں کچھ خاص نہیں کر سکی۔ اس فہرست میں شمالی ہند کی کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں کانگریس سے کچھ کرشمے کی توقع تھی،لیکن راہل گاندھی کی انتخابی مہم کے باوجود وہ ناکام ہوگئی۔ راہل گاندھی اب کانگریس پارٹی کے صدر نہیں ہیں ،لیکن پارٹی گاندھی خاندان کے گرد گھوم رہی ہے۔ کانگریس راجستھان اور چھتیس گڑھ میں اپنی حکومت کھو چکی ہے اور مدھیہ پردیش میں بھی بی جے پی کے ہاتھوں بری طرح شکست ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسے میزورم میں صرف ایک سیٹ ملی ہے۔ تاہم تلنگانہ میں اس نے کے سی آر کی بی آر ایس پارٹی کو شکست دے کر تاریخ رقم کی ہے۔ تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پانچ میں سے چار اسمبلی انتخابات میں شکست گاندھی خاندان کی شکست ہے یا اس کے ذمے دار اکیلے راہل گاندھی ہیں؟
راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ میں بی جے پی کی انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی آگے تھے جبکہ ریاستی اور دیگر مرکزی قائدین پیچھے تھے۔ کانگریس کی انتخابی مہم کے بارے میں بات کریں تو ریاستی قائدین آگے تھے اور راہل گاندھی پچھلی سیٹ پر تھے۔ انہوں نے راجستھان میں تھوڑا کم انتخابی مہم چلائی لیکن تلنگانہ میں ان کی مہم زوردار تھی۔ تلنگانہ کے علاوہ دیگر ریاستوں میں ان کا چہرہ اور ان کے ذریعہ دیے گئے نعروں کا استعمال نہیں کیا گیا۔ اگر ہم چھتیس گڑھ کی بات کریں تو وہاں بھوپیش بگھیل اپنی حکومت کی خوبیاں گنتے رہے۔ اسی طرح راجستھان کے انتخابات میں اشوک گہلوت اڑان بھر رہے تھے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کی بات کریں تو کمل ناتھ نے وہاں انتخابات کی ذمہ داری لی تھی۔ تلنگانہ میں انتخابات کی ذمہ داری ریواتھا ریڈی کے کندھوں پر تھی۔ اگر اس طرح دیکھا جائے تو مختلف ریاستوں میں کانگریس کے مختلف چہرے تھے، تو کیا راہل گاندھی کو ان شکستوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے؟ کانگریس کی کوریج کرنے والے ایک صحافی نام ظاہرنہیں کرنے کی شرط پر کہتے ہیں کہ اگر کانگریس ہار گئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ لوگوں نے اس کی قیادت پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا اور قیادت کا مطلب گاندھی خاندان ہے۔ آسان الفاظ میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انتخابات کے دوران ریاستی اور مرکزی کانگریس کے لیڈر یکساں طور پر انتخابی مہم چلا رہے تھے، تو یہ بگھیل، گہلوت اور کمل ناتھ کی شکست ہے۔
سینئر سیاسی تجزیہ کار نیرجا چودھری کا کہنا ہے کہ ان اسمبلی انتخابات میں نہ تو راہل گاندھی کا چہرہ سامنے رکھا گیا اور نہ ہی ان کے بارے میں زیادہ کشش تھی۔وہ کہتی ہیں،’’تمام ریاستوں میں ان کے مقامی لیڈر الیکشن لڑ رہے تھے۔ چھتیس گڑھ میں، بہت سے لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے امیدوار سے ناراض ہیں، لیکن وہ بگھیل کی قیادت کی وجہ سے کانگریس کو ووٹ دیں گے۔ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان کے بارے میں یہ سوال تھا کہ اگر کانگریس انتخابات جیت جاتی ہے تو وہاں کا وزیر اعلیٰ کون ہوگا؟ راجستھان میں لوگ گہلوت کے بارے میں بات کرتے تھے اور راہل گاندھی کے بارے میں کبھی بات نہیں کرتے تھے۔ راہل نے اپنی زیادہ تر ریلیاں تلنگانہ میں کیں۔ اس طرح یہ راہل گاندھی کی نہیں ریاست کے لیڈروں کی شکست ہے کیونکہ راہل گاندھی انتخابی مہم میں کہیں بھی آگے نہیں تھے۔ ’’کانگریس کو قریب سے سمجھنے والے سینئر سیاسی تجزیہ کار رشید قدوائی کہتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں ایسا بیانیہ بناتی ہیں کہ جیت کا سہرا اسی کے سر ہے جو پارٹی کا بڑا لیڈر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کانگریس نے اس بار کے اسمبلی انتخابات کو صرف ریاستی لیڈروں پر چھوڑ دیا تھا اور راہل گاندھی وپرینکا گاندھی صرف مہم چلانے والوں کے کردار میں تھے۔
اس بیچ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بھارت جوڑو یاترا نے راہل گاندھی کی شبیہ کو بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ ایک محنتی اور سنجیدہ سیاستدان کے طور پر ان کی تصویر ابھر کر سامنے آئی تھی ۔ وہ اڈانی سے لے کر چین تک کے مسائل پر مودی حکومت کو گھیرنے میں بھی کامیاب رہے۔ اس دوران ہماچل پردیش اور کرناٹک میں کانگریس جیت گئی۔اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ قائم ہوا۔’’انڈیا‘‘ کی میٹنگوں میں اپوزیشن لیڈر بھی راہل گاندھی کو لے کر سنجیدہ نظر آئے۔ اس سب کی وجہ سے راہل گاندھی کا قد مسلسل بڑھتا جا رہا تھا، لیکن ہندی پٹی کے اسمبلی انتخابات میں جہاں کانگریس کو بری طرح شکست ہوئی وہیں راہل گاندھی کے بڑھتے قد کو یہ ایک بڑا دھچکا ہے۔اس دھچکے کے بعد اب انہیں اپنی حکمت عملی نئے سرے سے بنانا ہو گی۔
**************

