تاثیر،۱۰ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
ہمہ جہت ترقی کے لئے آبادی کے لحاظ سے مسلمانوں کو ہر شعبے میں متناسب نمائندگی دی جائے: محمد شعیب
قوم و ملت کے اہم مسائل پر مشاورت بہار کے عاملہ اور ضلعی ذمہ داران کی نشست میں غورو خوض
مظفرپور:10/دسمبر (اسلم رحمانی) بہار کے تمام اضلاع میں شیعہ اور سنی وقف کی اربوں کھربوں کی جائداد ہے۔ مگر یہ زیادہ تر لاوارث کا مال بنی ہوئی ہیں جس میں ناجائز طریقہ سے یا تو غیر قانونی قبضہ ہے،یا اس کو غیر قانونی طور پر بیچا اور خریدا گیا ہے یا وہ لاوارث کا مال ہیں جس کا کوئی دیکھنے والا نہیں ہے۔ یہ باتیں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بہار کے صدر ڈاکٹر ابوذر کمال الدّین نے ماڑی پور کے واقع پانچ ستارہ ہوٹل میں منعقد مشاورت بہار کے عاملہ اور ضلعی ذمہ داران کی ایک اہم نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں مزید کہا کہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت پورے بہار میں وقف تحفظ اور اس کے صحیح استعمال کی مہم چلائے گی۔ لہذا ہم حکومت بہار اور شیعہ سنی دونوں وقف بورڈوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ بہار میں کہاں اور کتنی وقف کی جائداد ہے، اس کی موجودہ پوزیشن کیا ہے اور اس کے سلسلے میں کیا منصوبہ ہے اس پر ایک وھائٹ پیپر شائع کرے تاکہ عام عوام اور ملی اداروں کو وقف کی صحیح صورتحال کا علم ہو سکے۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہاکہ یہ بات اب تک تمام سرکاری اور غیر سرکاری مطالعات اور رپورٹ سے واضح ہے کہ مسلمان بحیثیت مجموعی پورے ملک میں بالعموم اور پورے بہار میں بالخصوص سیاسی، معاشی، تعلیمی اور سماجی لحاظ سے سب سے پسماندہ سماجی اکائی ہیں۔ لہذا مسلمانوں کی تعلیمی، معاشی، سماجی اور سیاسی صورتحال جاننے کےلئے ذات پر مبنی مردم شماری کے طرز پر ایک خصوصی سروے کرایا جائے،اور اس کی رپورٹ شائع کرائی جائے تاکہ ان کے حالات کو بہتر بنانے اور ترقی کی مکھ دھارا میں ان کو لانے کی سنجیدہ اور ایماندارانہ کوشش کی جائے۔ مسلمان بھارت کے سماج کا اٹوٹ حصہ ہیں ان کو چھوڑ کر بھارت کو یاکسی ریاست اور خاص طور سے ریاست بہار کو ترقی یافتہ نہیں بنایا جاسکتا ہے۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت بہار کے جنرل سیکرٹری محمد شعیب نے کہا کہ فرقہ وارانہ فساد بھارت کی ایسی سچائی ہے جس نے بھارت کے روشن چہرے کو عالمی برادری کے سامنے داغدار کردیا ہے اور جس سے بھارت کی نیک نامی پر بٹہ لگتا ہے۔ مجلس مشاورت بہار حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ چونکہ لاءاینڈ آڈر بحال رکھنا اور شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرنا ریاستی سرکار کی ذمہ داری ہے لہذا وہ اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں فسادات کی روک تھام، قیام عدل ،بازآبادکاری اور معاوضہ کےلئے بہار میں فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام فوری انصاف بحالی اور معاوضہ ایکٹ پاس کرے اور اس کے نفاذ کو یقینی بنائے۔ محمد شعیب نے مزید کہا کہ مسلمانوں کی پولی ٹیکل، ایجوکیشنل، اور شوسل امپاور منٹ کےلئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کو نہ صرف چند مخصوص اقلیتی اداروں میں بلکہ تمام کمیشن، کمیٹیز، سرکاری اور خودمختار اداروں میں، یونیورسٹی سینیٹ، سنڈی کیٹ میں ان کی آبادی کے لحاظ سے متناسب نمائندگی دی جائے۔ انہوں یہ بھی کہاکہ بہار، بھارت کی ان ریاستوں میں ایک نمونے کی ریاست ہے جہاں سب سے پہلے اردو کو پورے بہار کی دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے مگر پولیٹکل لیڈر شپ کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود بیوروی کریسی کی سطح پر اس کا نفاذ ٹھیک ڈھنگ سے نہیں ہورہا ہے۔ یہاں تک کہ اردو تعلیم و تعلم کے معاملے میں بھی کوتاہی برتی جاتی ہے۔ صحیح ڈھنگ سے نفاذ و نگرانی نہیں ہونے کی وجہ سے اردو کی تعلیم اور اس کا سرکاری اور سماجی استعمال جس طرح ہونا چاہیے وہ نہیں ہو پارہا ہے۔ اردو ڈائریکٹوریٹ ہاتھی کے دیکھاوٹی دانت کی طرح ہے جس کا کوئی خاص فائدہ اردو اور اردو عوام کو نہیں ہورہاہے۔ نشست میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا، اس موقع پر ڈاکٹر ابوذر کمال الدّین ،محمد شعیب، جاوید احمد،محمد اشتیاق،احمد رشدی دربھنگہ، آفتاب کاظمی مظفرپور، تنویر احمد خان، موتہاری، یاسمین بانو،شاہد کمال، محمد شبیر،محمد قریش دہلی،محمد واعظ الحق حاجی پور، وسیم احمد اختر جامعی،محمد وصی عالم ریاضی وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

