تاثیر،۱۰ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
سمستی پور، 10 دسمبر: بہار کے سمستی پور میں سی بی ا?ئی کی کارروائی کی اطلاع مل رہی ہے۔ ٹیم نے سمستی پور ریلوے ڈویزن کے ایک سیکشن انجینئر کو گرفتار کیا ہے ، جس سے رشوت کی رقم برا?مد کی گئی ہے۔ سی بی ا?ئی نے یہ کارروائی ریلوے فیکٹری کے مین گیٹ کے باہر اس وقت کی ، جب انجینئر رقم کو ٹھکانے لگانے کے لیے اپنی موٹر سائیکل پر جا رہا تھا۔ اس کارروائی سے محکمہ ریلوے میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
گرفتار منٹو کمار سمستی پور مکینیکل فیکٹری میں سینئر سیکشن انجینئر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ اس پر کرپشن کا الزام ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ گوالیار کی ایک کمپنی نے سمستی پور ریل فیکٹری میں ویگن مینوفیکچرنگ سے متعلق ایک مشین لگائی تھی۔ اس مشین کا بل کافی دنوں سے زیر التواء تھا۔ کمپنی نے انجینئر پر بل کی منظوری کے بدلے رشوت طلب کرنے کا الزام لگایا تھا۔
ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ کمپنی نے جو مشین لگائی تھی اس کا سرٹیفکیٹ جاری کرنا تھا۔ تین انجینئروں نے تصدیق شدہ کاپی پر دستخط کیے ، لیکن منٹو کمار نے ہچکچاتے ہوئے بدلے میں رقم کا مطالبہ کیا۔
کمپنی کی اس شکایت کے بعد سی بی ا?ئی کی ٹیم ہفتہ کی شام ریلوے فیکٹری پہنچی اور انجینئر کو گرفتار کرلیا۔ تفتیش کے دوران اس سے رشوت کی رقم برا?مد ہوئی ہے۔ حالانکہ برا?مد شدہ رقم کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ سی بی ا?ئی کی ٹیم انجینئر کو گرفتار کر کے پٹنہ لے گئی۔
واضح ہو کہ اس سے پہلے بھی سمستی پور ریلوے ڈویزن میں بدعنوانی کا معاملہ سامنے ا? چکا ہے۔ گذشتہ سال سینئر ڈی سی ایم روپیش کمار کو 5 لاکھ روپے کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ ایک سینئر انجینئر نے پورنیہ کورٹ اسٹیشن پر کھڑی ٹرین کا انجن بیچ دیا تھا۔ اس طرح کا معاملہ سامنے ا?نے پر ریلوے کو بدنام کیا گیا۔ اب ایک اور انجینئر رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا ہے۔

