تاثیر،۱۱ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
انڈیا الائنس کی اگلی میٹنگ 19 دسمبر کو سہ پہر 3 بجے سے دہلی میں ہونے جا رہی ہے۔میٹنگ کا تھیم ہوگا ’’جڑے گا انڈیا، جیتے گا بھارت‘‘۔ اس سے پہلے کانگریس نے6دسمبر کو انڈیا الائنس کی میٹنگ کا اہتمام کیا تھا۔جے ڈی یو، ایس پی، ٹی ایم سی،جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) اور عام آدمی پارٹی سمیت دیگر کئی اہم پارٹیوں کے سربراہوں نے اپنی دیگر مصروفیتوں کا حوالہ دیتے ہوئےاس میٹنگ میں شرکت کرنے سے معذرت کر لی تھی۔ اس وجہ سے میٹنگ کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔ اب 19 تاریخ کو دوبارہ میٹنگ بلائی گئی ہے۔ قابل ذکر ہےکہ اس سے پہلے انڈیا الائنس کے اجلاس پٹنہ، بنگلورو اور پھر ممبئی میں ہو چکے ہیں۔ اگرچہ ان ملاقاتوں میں بہت سے معاملات پر بات چیت ہوئی ،لیکن سیٹوں کی تقسیم پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ کچھ کمیٹیاں ضرور بنی ہیں، لیکن ابھی تک زمین پر کچھ واضح طور پر کچھ بھی نہیں اتر سکا ہے۔ اسی سرد مہری کی وجہ سے ایس پی سربراہ اکھلیش یادو اور کانگریس کے درمیان ایم پی الیکشن کے دوران رسہ کشی ہوئی تھی۔ اسی طرح نتیش کمار کے ساتھ بھی کانگریس کا جمود دیکھنے کو ملا۔ اس وقت کانگریس کے مفاد پرستانہ رویہ سے بہت سی دوسری پارٹیاں ناراض تھیں، لیکن اب تین ریاستوں میں انتخابی شکست نے انتخابی ایکویشن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب کانگریس کی سودے بازی کی طاقت کم ہوگئی ہے۔ پہلے کانگریس کی حکمت عملی یہ تھی کہ انتخابی جیت کے بعد میٹنگ بلائی جائے گی اور سیٹوں کی تقسیم سے لے کر دیگر مسائل پر چھوٹی پارٹیوں کو ا پنی مٹھی میں رکھا جائے گا، لیکن اب کانگریس کی جارحیت کم ہوچکی ہے اور دوسری پارٹیاں پوری طاقت سے اپنی بات منوانے کی پوزیشن میں ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اب سیٹوں کی تقسیم کے دوران بھی کانگریس کو مزید قربانیاں دینی پڑ سکتی ہیں۔ ان تمام ریاستوں میں جہاں کانگریس کی شکست ہوئی ہے، مقابلہ سیدھا بی جے پی سے تھا۔ اس وجہ سے اب کانگریس کو ہندی بیلٹ کی ریاستوں میں سیٹوں کی تقسیم کے دوران جھک کر سمجھوتہ کرنا پڑسکتا ہے۔
دوسری جانب ہندی پٹی کی تینوں ریاستوں کے انتخابات میں کانگریس کی شکست کے بعد اب اپوزیشن انڈیا الائنس کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کانگریس کی شکست پر ہی نہیں بلکہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے انڈیا الائنس کی میٹنگ بلانے اور اکھلیش یادو سمیت کئی سینئر لیڈروں کے میٹنگ میں شرکت سے انکار کی وجہ بھی موضوع بحث ہے۔ ملکارجن کھرگے نے انتخابی نتائج کے فوراً بعد 6 دسمبر کو انڈیا الائنس کی میٹنگ بلائی تھی۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی سربراہ ممتا بنرجی، بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار، جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے سربراہ اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے پہلے سے طے شدہ پروگراموں کا حوالہ دیکر میٹنگ میں شرکت کرنے سے گریز کیا۔حالانکہ اتحاد کا داخلی ماحو ل ابھی بھی خوشگوار نہیں ہیں۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نےاب ’’انڈیا‘‘ کی میٹنگ 19 دسمبر کو بلائی ہے اور اس میں شرکت کے لیے تمام لیڈروں کو تیار کرنے کی ذمہ داری بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرساد یادو کو دی گئی ہے۔دیکھنا ہے کہ لالو پرساد یادو کس طرح اتحاد سے وابستہ پارٹی سرپراہوں کے دلوں کو جوڑتے ہیں۔دراصل، کانگریس نے مدھیہ پردیش اسمبلی انتخابات میں ایس پی کو ایک بھی سیٹ نہیں دی، یہاں تک کہ وہ بھی نہیں ،جہاں سے اکھلیش کی پارٹی کے امیدوار نے 2018 میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جہاں اکھلیش اور کانگریس کے درمیان چناوی رقابت مشہور تھی وہیں ممتا بنرجی نے انتخابی ریاستوں میں علاقائی پارٹیوں کے تئیں کانگریس کے رویہ پر سوال اٹھائے تھے۔ جنتا دل یونائیٹڈ لیڈر نتیش کمار نے بھی ریاستی انتخابات کی وجہ سےانڈیا الائنس کے معاملے میں کانگریس کی سرد مہری پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ اب ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے ایک بڑی لکیر کھینچ دی ہے۔انھوں نے صاف صاف کہہ دیاہے کہ اب پہلے سیٹ شیئرنگ پر فیصلہ ہوگا اور پھر مزید بات چیت ہوگی۔ اب اکھلیش یادو جیسے لیڈر کانگریس پارٹی کو زیادہ جگہ دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اکھلیش یادو کاکہنا ہے کہ پہلےیہ طے تھا کہ جو بھی جہاں مضبوط ہوگا وہاں کی دوسری پارٹیاں اس کی مدد کریں گی۔ لیکن اسمبلی انتخابات میں ایسا نہیں ہو سکا۔اکھلیش یادو کے تیور سے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ اتر پردیش میں کانگریس پارٹی کو زیادہ سیٹیں دینے کے موڈ میں نہیں ہیں۔اگر کانگریس پارٹی اتر پردیش میں زیادہ سیٹیں مانگتی ہے تو بات چیت کا سلسلہ پٹری سے اتر بھی سکتا ہے۔
دوسری طرف اتر پردیش میں کانگریس پارٹی کسی بھی قیمت پر اپنی طاقت بڑھانے اور دکھانے کے موڈ میں ہے۔کانگریس کے یوپی صدر اجے رائے اتر پردیش میں جھکنے کو تیار نہیں ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد ریاستی سطح پر ایس پی اور کانگریس کے درمیان کشیدگی کم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے،لیکن موجودہ صورتحال میں کانگریس پارٹی کو شاید نہ صرف اتر پردیش میں بلکہ دیگر ریاستوں کی علاقائی پارٹیوں سے بھی از سر نو اتحاد کے لیے بہت حد تک جھکنا پڑ سکتا ہے۔ بصورت دیگر دیوار پر لکھی عبارتیں یہ بتا رہی ہیں کہ 2024کے لوک سبھا انتخابات میں مرکز کے اقتدار سے بی جے پی کو بے دخل کرنے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔

