تاثیر،۱۶ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو بی جے پی کی’ ہندوتو وادی سیاست‘ کا جواب ملازمت اور روزگار سے دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان دنوں بہار میں ملازمتوں اور روزگاروں کی بہار ہے۔ 10 لاکھ ملازمت اور 10 لاکھ روزگار کے ہدف کو پورا کرنے کے لئے بہار کی عظیم اتحاد حکومت مسلسل کام کر رہی ہے۔ اس بہتی گنگا میں دوسری ریاستوں کے بے روزگار نوجوان بھی ہاتھ دھو رہے ہیں۔گزشتہ دنوں پٹنہ میں منعقد ’’بہار انویسٹرس سمٹ ‘‘ حکومت بہار کی اسی مہم کی ایک کڑی مانی جا رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مہم نتیش کمار کا انتخابی ماسٹر اسٹروک ہونے کے ساتھ ساتھ بی جے پی کےہندوتو وادی ایجنڈے کا ایک بہترین جواب بھی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ 13 اور 14 دسمبر کو پٹنہ میں منعقد’’ بہار انویسٹرس سمٹ‘‘ میں کمپنیوں نے بہار میں صنعتی یونٹس قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں کمپنیوں اور بہار حکومت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے۔ ریاست میں کمپنیوں کی طرف سے تقریباً 26 ہزار 805 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا ۔زیادہ سے زیادہ پندرہ فوڈ پروسیسنگ کمپنیوں نے 10,304 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت کی آٹھ کمپنیوں نے 554 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پر دستخط کیے ، پیداوار اور تعمیرات کی 14 کمپنیوں نے 15 ہزار 570 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پر دستخط کیے اور آنکھوں کے شعبے کی تین کمپنیوں نے 377 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے معاہدے پر دستخط کیے ۔
اگر انویسٹرس کی بات کی جائے تو سب سے بڑے سرمایہ کار کے طور پر اڈانی گروپ کی بہت بڑی تجویز بہار میں نہ صرف روزگار کی کھڑکی کھولتی نظر آتی ہے بلکہ بہار کی صنعتی صورتحال کو امید افزا بھی بنانا چاہتی ہے۔ اڈانی گروپ بہار میں 8700 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر تمام متوقع پروجیکٹ بہار کی سرزمین پر قائم ہو جائیں تو 10 ہزار لوگوں کو براہ راست روزگار ملے گا اور تقریباً اتنے ہی لوگوں کو بالواسطہ طور پر روزگار ملے گا۔ اڈانی گروپ کے ذریعہ اس امید اور یقین کا اظہار گلوبل انویسٹرس سمٹ ’’بہار بزنس کنیکٹ۔2023‘‘ میں کیا گیا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اڈانی گروپ کے ڈائریکٹر پرنب اڈانی کو ترقی پذیر بہار پر پورا بھروسہ ہے۔ اڈانی گروپ کی سرمایہ کاری کے پیچھے وجہ سماجی شعبے اور امن و امان کی صورتحال میں تبدیلی بتائی جاتی ہے۔ یہ اڈانی گروپ کے پرنب اڈانی کے اپنے خیالات بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہار میں لاجسٹکس، گیس ڈسٹری بیوشن اور ایگرو لاجسٹکس کے شعبے میں سرمایہ کاری کی رقم کو 850 کروڑ روپے سے دس گنا بڑھا کر 8700 کروڑ روپے کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔
اس دو روزہ ’’بہار بزنس میٹ‘‘ کے دوران 300 کمپنیوں نے بہار میں50530.41 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کے لیے ایم او یو پر دستخط بھی کیےتھے۔ زیادہ تر شرکاء نے فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں دلچسپی ظاہر کی۔ ایک اندازے کے مطابق دلچسپی ظاہر کرنے والی 124 کمپنیاں فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں 14,564.11 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے والی ہیں۔جنرل مینوفیکچرنگ کے شعبے میں، 99 کمپنیوں نے 31,394.14 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے پر اتفاق کرتے ہوئے ایک ایم او یو پر بھی دستخط کیے ہیں۔ نہر گروپ آف انڈسٹریز بہار میں لاجسٹک پارک کے نام پر 300 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرنے والا ہے۔ ہائی اسپرٹ وینچرز، کومل گروپ بھی بہار میں سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہ دونوں کمپنیاں تقریباً 8 ہزار لوگوں کو براہ راست ملازمتیں فراہم کرنے والی ہیں۔
دوسری بہار بی جے پی کی نظر میں یہ سب کچھ تماشہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔بی جے پی والے’’ بہار انویسٹرس کنیکٹ میٹ ‘‘ کو فلاپ شو کہتے ہوئے نہیں تھک رہے ہیں۔بی جے پی رہنما اور سابق وزیر صنعت ڈاکٹر بھیم سنگھ کا کہنا ہے کہدو روزہ سربراہی اجلاس میں بہار جیسی بڑی ریاست میں صرف 50,000 کروڑ روپے کے ایم او یو پر دستخط کرنا اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے۔ حال ہی میں جب یوپی میں سربراہی اجلاس ہوئی تو وہاں 44 لاکھ کروڑ روپے کے مفاہمت ناموں پر دستخط کیے گئے۔تاہم دیکھنا باقی ہے کہ اس 5,000 کروڑ روپے میں سے کتنی سرمایہ کاری ہوتی ہے۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے بہار کے سابق نائب وزیر اعلی اور راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سشیل کمار مودی کہتے ہیں کہ جب تک لالو پرساد اور تیجسوی یادو بہار میں اقتدار کے مرکز میں رہیں گے، ان کے 15 سالہ دور اقتدار کو یاد کرتے ہوئے کوئی بڑا سرمایہ کار جلد بہار میں نہیں آئے گا۔ نتیش کمار کی یقین دہانی پر کسی کو بھروسہ نہیں ہے۔اس سے پہلے بہار میں دو بار سرمایہ کاروں کے ساتھ بات جیت ہو چکی ہے، لیکن آج تک اس کا کوئی بھی حاصل سامنے نہیں آ سکا ہے۔
ظاہر ہے’’بہار انویسٹرس سمٹ‘‘ کے حوالے سے بی جے پی لیڈروں کے مذکورہ خیالات کوری سیاست کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک طرف مرکز کی بی جے پی حکومت بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ نہیں دینا چاہتی ہے اور دوسری طرف بہار اپنے بل بوتے کچھ کرنا بھی چاہتا ہے تو نہ صرف اس کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے بلکہ اسے لالو یادو اور رابڑی دیوی کے 15 سالہ دور اقتدار کا خوف بھی دلایا جا رہا ہے۔حالانکہ بی جے پی کا ہندتو وادی ایجنڈہ جگ ظاہر ہے۔ اس ایجنڈے کا جواب اگر نتیش کمار بہار اور ملک کی دوسری ریاستوں کے بے روزگاروں کے لئے ملازمت اور روزگار کے مواقع پیدا کر کے دینا چاہتے ہیں تو ہمارے خیال سےنہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کو ان کے اس موقف کی تائید کرنی چاہئے۔

