’مسلم نوجوان بھی سماج کا حصہ ہیں‘

تاثیر،۱۷ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں کوتاہی کے حوالے سے سیاست اپنے عروج پر ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے مسلسل مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو ایوان میں آکر اس معاملے پر بیان دینا چاہئے۔ دریں اثنا، ایک اخبار کو دئے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں کوتاہی پر غم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں جو واقعہ ہوا، اس کی سنگینی کو کم نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ اس معاملے کی تحقیقات ضروری ہے۔ اس معاملے پر بحث یا مزاحمت کے بجائے اس کی گہرائی میں جانے کی ضرورت ہے۔ اسپیکر اوم برلا اس معاملے کو سنجیدگی سے لے کر تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔ اس معاملے کی جانچ ایجنسیاں بھی سختی سے کر رہی ہیں۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کون سے عناصر ملوث ہیں۔ اس کی بھی گہرائی میں جانا ضروری ہے۔ ہمیں مل کر حل تلاش کرنا ہوگا۔ ہر کسی کو ایسے موضوع پر مزاحمت سے گریز کرنا چاہیے۔
دراصل 13 دسمبر کو پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملے کی برسی کے موقع پر دو افراد ایوان میں داخل ہوئے اور اس پر اسموک بم سے حملہ کیا۔ا سموک بم کی وجہ سے ایوان میں پیلا دھواں پھیل گیا۔ تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ایوان میں داخل ہوئے دونوں در اندازوں کے ساتھ ساتھ ایوان کے باہر موجود اس کے دو ساتھیوں کو بھی گرفتار کرلیا۔ پولیس فی الحال معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اپوزیشن پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں کوتاہی کو لے کر مرکزی حکومت کو مسلسل مشکل میں ڈال رہی ہے۔ ان دنوں سرمائی اجلاس بھی چل رہا ہے، لیکن سیکورٹی کو لے کر اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان ایوان کو  اب تک کئی بار ملتوی کرنا پڑا ہے۔
یہ بات سب کو معلوم ہے کہ 13 دسمبر کو جب ملک پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملے کی 22 ویں برسی منا رہا تھا، دو لوگ ایوان میں داخل ہوئے۔ منورنجن ڈی اور ساگر شرما نامی دو لوگوں کے پاس وزیٹرز پاس تھے، جس سے وہ ایوان کی کارروائی دیکھنے کے لیے داخل ہوئے تھے۔ تاہم، دوپہر ایک بجے یہ دونوں لوگ وزیٹرز گیلری سے چھلانگ لگا کر سیدھے ایوان میں چلے گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے جوتوں میں چھپائے ہوئے اسموک بم کا استعمال کیا،جس کی وجہ سے ایوان میں پیلے رنگ کا دھواں پھیل گیا۔ جب یہ سب کچھ ایوان کے اندر ہو رہا تھا، نیلم آزاد اور امول شندے نامی دو لوگوں نے بھی پارلیمنٹ کے باہر دھواں دار موم بتیاں روشن کیں اور نعرے لگائے۔  اس کے بعد پولیس نے دونوں کو گرفتار کرلیا۔ ایوان کے اندر سے پکڑے گئے افراد کو بھی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ اسی وقت ماسٹر مائنڈ للت جھا، جو اپنے موبائل پر یہ سب ریکارڈ کر رہا تھا موقع سے فرار ہو گیا۔ تاہم اس نے چند روز قبل خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ اس معاملے میں تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ میں دراندازی کرنے والے مذکورہ ملزمین نے پولیس پوچھ تاچھ کے دوران حیرت انگیز انکشاف کیا ہے۔ ملزمین نے بتایا ہے کہ وزیٹرس گیلری سے لوک سبھا چیمبر میں کودنے کا منصوبہ بنانے سے پہلے انھوں نے کئی دیگر متبادل پر بھی غور کیا تھا۔ انھوں نے پارلیمنٹ میں خود کو نذرِ آتش کرنے کا بھی منصوبہ بنایا تھا۔ ساتھ ہی پارلیمنٹ میں پرچہ پھینکنے کے عمل پر بھی غور کیا تھا۔ حالانکہ بعد میں انھوں نے ان دونوں متبادل کو چھوڑ دیا اور آخر میں پارلیمنٹ میں گھس کر اسموک کینسٹر سے رنگین دھواں چھوڑنے پر اتفاق قائم ہوا۔ اب تک کی پوچھ گچھ سے پتہ چلا ہے کہ یہ سبھی ملزمین ایک فیس بک گروپ ’’بھگت سنگھ فین کلب‘‘ سے وابستہ تھے اور وہیں سے ایک دوسرے کے رابطے میں آئے تھے۔ یہ سبھی گروگرام میں وشال عرف وکی کے گھر ملتے تھے۔ اس پورے معاملےکے ماسٹر مائنڈ  للت جھا کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ  بہت زہریلا ہے۔ اس نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے’’بھارت کو صرف ایک بم کی ضرورت ہے۔‘‘سبھی کے خلاف آئی پی سی اور یو اے پی اے کی سخت دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن اس معاملے پر حکومت سے جواب چاہتی ہے۔ ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی نہیں چل رہی ہے۔
اس معاملے کو لیکر سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔اظہار خیالات کے ہجوم میں ، معاشرے کی نفسیات پر باریک نظر رکھنے والے معروف اسکالر پروفیسر ابوذر کمال الدین کی رائےبھی سامنے آئی ہے۔ وہ اپنی فیس بک وال پر لکھتے ہیں’’ پارلیمنٹ کی سیکورٹی میں بڑی کوتاہی ہوئی ہے۔ کچھ نوجوانوں نے اپنے غصے کے اظہار اور اپنے مسائل کے حل کے لیے اس راستے کا انتخاب کیا۔ یقیناً یہ غلط راستہ تھا۔اس سلسلے میں ٹھوس قانونی کارروائی کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ معاشرے میں پھیلی مایوسی کو کیسے دور کیا جائے۔ یہ نوجوان اپنی بے روزگاری اور اپنے مسائل سے اس قدر پریشان تھے کہ انھو ںنے اپنا ذہنی توازن کھو دیا اور ایک ایسا راستہ اختیار کیا جو انتہا پسندوں کا راستہ ہے۔مجھے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اگر بدقسمتی سے اس میں کوئی ایک بھی مسلم نوجوان ہوتا تو اب تک پورا بیانیہ ہی بدل گیا ہوتا۔ لوگ اسے براہ راست دہشت گردی سے جوڑ دیتے۔ جبکہ ان تمام چیزوں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہمیں سچائی کو قبول کرنا چاہئے اور یہ مان لینا چاہئے کہ مسلم نوجوان بھی سماج کا حصہ ہیں، ان کے بھی مسائل ہیں، ان کی بھی خواہشات ہیں اور ملک کے شہری ہونے کے ناطے ان کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ اگر وہ کچھ غلط کرتے ہیں تو ان کی مذمت ضرور ہونی چاہیے، لیکن ان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک ہرگز مناسب نہیں ہے۔ ملک، حکومت، معاشرہ، میڈیا اور تمام لوگوں کو اس بات کو سمجھنا چاہئے۔ میں امید کرتا ہوں کہ حکومت پارلیمنٹ کی سکیوریٹی کو مزید سخت کرے گی ۔ مستقبل میں کبھی ایسے واقعات نہیں ہونے دے گی ۔ ملک میں ایسا ماحول پیدا کرے گی، جس میں تمام شہری خواہ وہ کسی بھی برادری، ذات یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، محفوظ محسوس کریں گے اور کسی بھی سطح پر ذلیل نہیں ہوں گے۔ ‘‘
**************