تاثیر،۱۸ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
پرتھ، 18 دسمبر : آسٹریلوی بلے باز مارنس لیبوشین نے خود کو فٹ اور پاکستان کے خلاف اگلے ہفتے ہونے والے باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے لیے دستیاب قرار دیا ہے۔اسکین سے پتہ چلا ہے کہ ان کے دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی پر کوئی خاص چوٹ نہیں آئی ہے۔
29 سالہ کھلاڑی کو خرم شہزاد کی گیند پر چوٹ لگ گئی تھی، ٹیم فزیو نے فوری طور پر ان کی دیکھ بھال کی اور آؤٹ ہونے کے فوراً بعد ایکسرے کے لیے انہیں بھیجا گیا۔ اسکین میں کسی بھی طرح کے فریکچر کی تصدیق نہیں ہوئی ہے ۔ لیبوشین نے اعتراف کیا کہ وہ اس چوٹ سے گھبرائے ہوئے تھے اور یہ چوٹ انہیں ماضی میں لگی دیگر انگلی کی چوٹوں سے مختلف معلوم ہو رہی تھی۔
پرتھ میں آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف 360 رنوں کی جیت کے بعد لیبوشین نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’اس سے مجھے پور کی طرف زیادہ چوٹ آئی اور میرا ہاتھ جام ہو گیا، اس لیے میں وہاں تھوڑا سا گھبرا گیا تھا۔ میری انگلیوں پر کافی چوٹیں آئی ہیں لیکن یہ کچھ مختلف محسوس ہوئی۔ رات بھر میں تھوڑا سا درد ہوا لیکن [اتوار کی] صبح ٹھیک تھی، مجھے چوٹ لگی تھی اور سب ٹھیک ہو گیا ہے۔‘‘
پرتھ ٹیسٹ کی دو اننگز میں صرف 43 گیندیں کھیلنے والے لیبوشین نے کہا کہ اتوار کی صبح لانس مورس کے خلاف ان کا نیٹ سیشن ان کے زخمی ہاتھ کی جانچ کے لیے نہیں تھا بلکہ کچھ اور بیٹنگ کا وقت لینے کے لیے تھا، جو کہ میچ کے بعد میں ملنا مشکل تھا۔ حالانکہ انہوں نے ذکر کیا کہ ایم سی جی کی سطح پرتھ کی پچ کے مقابلے بہت مختلف چیلنج پیش کرے گی، جس میں سیم موومنٹ کے ساتھ کچھ اچھال ہوگا۔
انھوں نے کہا،’وہاں کی وکٹیں (پرتھ اسٹیڈیم کے نیٹ میں) واقعی اچھی ہیں، ہمارے پاس نئی وکٹ آئی تھیں اور پھر سچی وکٹوں پر اچھے بولرز کا سامنا کرنا مہارت کے لیے اچھا ہے، بیٹنگ کے لیے اچھا ہے۔میں نے ایک گھنٹہ تک بلے بازی کی اور تین گیند بازوں کا سامنا کیا‘‘۔
انہوں نے کہا، ’’مجھے شاید کچھ دن کی چھٹی ملے گی، اور برسبین میں کچھ سیشن گزاروں گا اور پھر 23 یا 24 تاریخ کو ٹیم میں شامل ہو جاؤں گا اور وہاں سے اپنی تیاری شروع کروں گا۔ پچھلے چار سالوں میں ایم سی جی کی وکٹ بہت بدل چکی ہے۔ یہ کافی حد تک ایڈیلیڈ کی وکٹ کی طرح ہو گیا ہے،اور اس میں تھوڑی سی سیم ، سوئنگ، بہت زیادہ گھاس ہے۔ میرے خیال میں یہ ایک اچھا چیلنج ہوگا، پرتھ وکٹ کچھ مختلف چیلنج تھا… جس میں زیادہ اچھال تھا۔‘‘
ان کے ذریعہ کھیلے گئے سب سے مشکل پچوں کی درجہ بندی کرنے کے لیے کہا گیالیبوشین نے اندور کی پچ کی درجہ بندی کی جسے اس نے پہلے بارڈر-گواسکر سیریز میں پہلے استعمال کی گئی اندور کی پچ، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کیلئے اوول کی پچ اور ساتھ ہی جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ کے لیے گزشتہ سال کی گابا پچ کا حوالہ دیا گیا۔
لیبوشین نے کہا،’’اندور میں ہماری پچ پر پہلے دن گیند چھ، سات ڈگری گھوم رہی تھی، اس لیے یہ بہت مشکل ہے۔ وہیں ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کے لیے استعمال ہونے والی اوول کی پچ میں بہت سنگین اتار چڑھاو والی تھی ، لیکن میرے خیال میں جیسے جیسے کھیل آگے بڑھتا گیا یہ بہتر ہوتا گیا۔‘‘
انہوں نے کہا، ’یہاں اورواکا [گراونڈ] میں گرم موسم اور اتنی زیادہ مٹی کی مقدار کے ساتھ، دراڑیں کھلنے لگتی ہیں اور دراڑیں بہت ہلنے لگتی ہیں۔ پچھلے سال گابا کی وکٹ کافی مشکل تھی لیکن یہ ظاہر ہے کہ مختلف تھا۔‘‘

