تاثیر،۲۰ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 20 دسمبر : دہلی کی راوس ایونیو کورٹ نے لینڈ فار جاب معاملے کی سماعت کرتے ہوئے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ وہ ملزمین کو چارج شیٹ سے متعلق دستاویزات فراہم کرے۔ عدالت اس معاملے کے ملزم تیجسوی یادو کی آسٹریلیا جانے کی اجازت دینے کی درخواست پر22 دسمبر کو سماعت کرے گی۔ خصوصی جج وشال گوگنے نے یہ حکم دیا۔
آج سماعت کے دوران اس معاملے کے ملزم لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے آج عدالت میں پیش ہونے کے لیے استثنیٰکی درخواست کی جسے عدالت نے قبول کر لیا۔ آج تیجسوی یادو کی جانب سے کہا گیا کہ 6 جنوری سے انہیں سرکاری کام کے لیے آسٹریلیا جانا ہے۔ اس سفر کے لیے پاسپورٹ جاری کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔
29 نومبر کو ملزمان کی جانب سے کہا گیا کہ انہوں نے تقریباً نصف دستاویزات کی جانچ کی ہے۔ چارج شیٹ کی ای کاپی اور ہارڈ کاپی میں یکسانیت نہیں ہے۔ ایسی صورتحال میں انہیں دستاویزات کی جانچ کے لیے 15 دن سے زیادہ کا وقت درکار ہے۔ اس معاملے میں 4 اکتوبر کو عدالت نے بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو، لالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کو ضمانت دے دی تھی۔
عدالت نے 22 ستمبر کو سی بی آئی کی طرف سے داخل کی گئی دوسری چارج شیٹ کا نوٹس لیا تھا۔ 3 جولائی کو سی بی آئی نے سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل کی تھی۔ سی بی آئی کی طرف سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو کو ملزم بنایا گیا ہے۔ سی بی آئی اس معاملے میں لالو یادو اور رابڑی دیوی کے خلاف چارج شیٹ پہلے ہی داخل کر چکی ہے۔
7 اکتوبر 2022 کو سی بی آئی نے ریلوے بھرتی گھوٹالہ کیس میں لالو پرساد یادو، رابڑی دیوی اور میسا بھارتی سمیت 16 ملزمان کے خلاف دہلی کی راؤس ایونیو کورٹ میں چارج شیٹ داخل کی تھی۔
سی بی آئی نے بھولا یادو اور ہردیانند چودھری کو ریلوے بھرتی گھوٹالہ کیس میں گرفتار کیا تھا۔ بھولا یادو 2004 سے 2009 تک لالو یادو کے او ایس ڈی تھے۔ ریلوے بھرتی گھوٹالہ اس وقت ہوا جب لالو یادو ریلوے کے وزیر تھے۔ بھولا یادو کو اس گھوٹالے کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا ہے۔ الزام ہے کہ لالو یادو کے ریلوے وزیر رہتے نوکری کے بدلے زمین دینے کو کہاجا تا تھا۔ بھولا یادو کو نوکری کے بدلے زمین دینے کا کام سونپا گیا تھا۔ بھولا یادو 2015 کے بہار اسمبلی انتخابات میں بہادر پور سیٹ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔

