تاثیر،۲۱ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
دوروزہ جشن اردوکے موقع پر شاندار پروگرام منعقد کیاگیا
اردوزبان ہندوستانی تہذیب کا خوبصورت اختیار ہے جس کا بنیادی کردار سیکولر اور مزاج گنگا جمنی ہے ،اس کا اظہار شعبہ اردو ممبئی یو نیورسٹی میں جشن اردو کا افتتاح کرتے ہوئے مشہور شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر نے کیا۔دوروزہ جشن اررو،رسالہ اردو چینل کی اشتراک سے منایا گیا۔
اس موقع پر جاوید اختر نے مزید کہاکہ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے بلکہ مسلمان اردو بولتے ہیں۔ یہ زبان ہندوستانی تہذیب کا خوبصورت اختیار ہے جس کا بنیادی کردار سیکولر اور مزاج گنگا جمنی ہے۔ انہوں نے کئی اہم واقعات اور اردو کے سلسلہ میں طلباء،اساتذہ اور حاضرین۔کے روبرو پیش کئے۔
ابتداء میں صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبد اللہ امتیاز نے شعبہ اردو کا تعارف پیش کیا،انہوں نے شعبہ کی کارکردگی اور اردو کے متعلق کورسس سے بھی واقف کروایا ،جن میں اُردو زبان سیکھانے،شاعر کی تعلیم اورصحافت کی تربیت اور لیکچر کے بارے میں۔ تفصیل پیش کی۔
اس پروگرام کے صدر ڈاکٹر سید تقی عابدی نے کہا کہ اردو دکن میں پیدا ہوئی، دلی میں جوان ہوئی اور مہاراشٹر میں پھلی پھولی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر شباب عنایت ملک نے جموں کشمیر میں اردو کی صورتحال پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس طرح کے جشن کا انعقاد جموں کشمیر میں بھی کیا جائے گا۔ جشن اردو کے ایک منتظم ڈاکٹر قمر صدیقی نے پروگرام کا مقصد پیش کیا۔ انہوں نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ افتتاح کے بعد انداز بیاں کے عنوان سے ڈاکٹر تقی عابدی نے مرزا غالب کے فکر وفن پرخطاب کیا۔ بیت بازی اردو زبان وادب کوکر کے اردوخطاطی، پیننگ اور مہندی کے مختلف مقابلوںکیلئے طلبہ کی بھیڑ امڈ پڑی تھی۔ مجیب خان کیہدایت میں ڈراما رنگ مولا پیش کیا گیا ہے کافی للپسند کیا گیا۔ ڈرامے کے بعد کثیر لسانی مشاعر ہوا جس میں مراٹھی، ہندی، انگریزی، گجراتی اور اردو کے شعراء شریک ہوئے۔ مشاعرے کی صدارت اعجاز ہندی نے کی، آخرمیں پروگرام گیت سنگیت پر مشتمل تھا۔
آج پروگرام کے دوسرے دن ادبی مجلہ۔ اردو چینل کے ۲۵ سال مکمل ہونے پر شاعر و صحافی شاہد لطیف نے اظہار کرتے ہوئے،قمر۔صدیقی کی جدوجہد کی کہانی سنائی۔ خیال اس اجلاس کے صدارت مشہور شاعر اور ترجمہ نگار قاسم ندیم نے کی ۔ اس کے بعد جدید علمی نظام اور مسلمان کے موضوع پر مذاکرہ ہوا۔اس۔موقع پر سینئر شاعر و صحافی ندیم صدیقی اپنے ادبی سفر کی تفصیل پیش کی۔ ظہرانہ۔کے مرثیہ خوانی ، صحت اور سماج اور افسانہ خوانی،، داستان گوئی اور عالمی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر جاوید اختر نے مزید کہاکہ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے بلکہ مسلمان اردو بولتے ہیں۔ یہ زبان ہندوستانی تہذیب کا خوبصورت اختیار ہے جس کا بنیادی کردار سیکولر اور مزاج گنگا جمنی ہے۔ انہوں نے کئی اہم واقعات اور اردو کے سلسلہ میں طلباء،اساتذہ اور حاضرین۔کے روبرو پیش کئے۔
ابتداء میں صدر شعبہ اردو ڈاکٹر عبد اللہ امتیاز نے شعبہ اردو کا تعارف پیش کیا،انہوں نے شعبہ کی کارکردگی اور اردو کے متعلق کورسس سے بھی واقف کروایا ،جن میں اُردو زبان سیکھانے،شاعر کی تعلیم اورصحافت کی تربیت اور لیکچر کے بارے میں۔ تفصیل پیش کی۔
اس پروگرام کے صدر ڈاکٹر سید تقی عابدی نے کہا کہ اردو دکن میں پیدا ہوئی، دلی میں جوان ہوئی اور مہاراشٹر میں پھلی پھولی۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی پروفیسر شباب عنایت ملک نے جموں کشمیر میں اردو کی صورتحال پر روشنی ڈالی اور کہا کہ اس طرح کے جشن کا انعقاد جموں کشمیر میں بھی کیا جائے گا۔ جشن اردو کے ایک منتظم ڈاکٹر قمر صدیقی نے پروگرام کا مقصد پیش کیا۔ انہوں نے مہمانوں کا تعارف پیش کیا۔ افتتاح کے بعد انداز بیاں کے عنوان سے ڈاکٹر تقی عابدی نے مرزا غالب کے فکر وفن پرخطاب کیا۔ بیت بازی اردو زبان وادب کوکر کے اردوخطاطی، پیننگ اور مہندی کے مختلف مقابلوںکیلئے طلبہ کی بھیڑ امڈ پڑی تھی۔ مجیب خان کیہدایت میں ڈراما رنگ مولا پیش کیا گیا ہے کافی للپسند کیا گیا۔ ڈرامے کے بعد کثیر لسانی مشاعر ہوا جس میں مراٹھی، ہندی، انگریزی، گجراتی اور اردو کے شعراء شریک ہوئے۔ مشاعرے کی صدارت اعجاز ہندی نے کی، آخرمیں پروگرام گیت سنگیت پر مشتمل تھا۔
آج پروگرام کے دوسرے دن ادبی مجلہ۔ اردو چینل کے ۲۵ سال مکمل ہونے پر شاعر و صحافی شاہد لطیف نے اظہار کرتے ہوئے،قمر۔صدیقی کی جدوجہد کی کہانی سنائی۔ خیال اس اجلاس کے صدارت مشہور شاعر اور ترجمہ نگار قاسم ندیم نے کی ۔ اس کے بعد جدید علمی نظام اور مسلمان کے موضوع پر مذاکرہ ہوا۔اس۔موقع پر سینئر شاعر و صحافی ندیم صدیقی اپنے ادبی سفر کی تفصیل پیش کی۔ ظہرانہ۔کے مرثیہ خوانی ، صحت اور سماج اور افسانہ خوانی،، داستان گوئی اور عالمی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا۔

