’آل اِزویل‘

تاثیر،۲۲ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی خراب کارکردگی نے ملک کی اس عظیم الشان پارٹی کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ کرناٹک انتخابات کے بعد اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ میں کانگریس کا قد کافی بڑھ گیا تھا۔سب کو امید تھی کہ پارٹی ان 5 ریاستوں کے انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکا۔ کانگریس سیاست کے راستے پر چلتے چلتے اچانک پھسل گئی۔  ۔پارٹی کو شمالی ریاستوں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس کے بعد ’’انڈیا‘‘ کی حلیف جماعتوں نے بھی کانگریس کو انڈر اسٹیمیٹد کرنا شروع کردیا۔’دوست دوست نارہا‘ جیسے حالات پیدا ہو گئے۔ایسے مشکل وقت میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی جیسے رہنما ؤں کو سیاست کے چانکیہ کہلائے جانے والے شرد پوار کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ 29 دسمبر کی انڈیا الائنس کی میٹنگ ہو یا جنتر منتر پر اپوزیشن اتحاد کے لیڈروں کا مظاہرہ ہو دونو ں جگہوں پر شرد پوار سبھی کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
پارلیامنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران 146 ایم پیز کو معطل کردئے جانے کے احتجاج میں کل 22 دسمبر کو جنتر منتر پر اپوزیشن اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے منعقد دھرنا کے دوران بھی راہل اور شرد پوار ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ دراصل، حالیہ دنوں میں پوار اور کانگریس کے درمیان کافی قربتیں آئی ہیں۔ پوار کو 6 دہائیوں سے زیادہ کا سیاسی تجربہ ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ راہل کی رہنمائی اچھی طرح سے کر سکتے ہیں۔سونیا گاندھی کے غیر ملکی نژاد کا مسئلہ اٹھانے کے بعد ایک بار کانگریس چھوڑ کر الگ پارٹی بنانے والے شرد پوار کے ان دنوں سونیا گاندھی کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ انڈیا الائنس کی میٹنگ میں دونوں لیڈر آپس میں کافی بحث کرتے نظر آئے۔ سونیا اور شرد پوار کے درمیان بہترتعلقات انڈیا الائنس کی میٹنگ میں بھی نظر آئے تھے۔دراصل شرد پوار کبھی سونیا گاندھی کے شوہر راجیو گاندھی کے بہت قریب تھے۔ اس کے علاوہ تقریباً تمام اپوزیشن جماعتوں میں ان کا اچھا اثر و رسوخ ہے۔شرد پوار، جنہوں نے اپنی زندگی کی 8 دہائیاں دیکھی ہیں، کو سیاست کا تجربہ کار سمجھا جاتا ہے۔ فی الحال، کانگریس گزشتہ 10 سالوں سے مرکز میں اقتدار سے دور ہے۔ لوک سبھا انتخابات اگلے سال ہونے والے ہیں۔ ظاہر ہے کہ دونوں کے درمیان اسی موضوع پر گفتگو ہو رہی ہوگی۔ یہ شرد پوار ہی تھے ،جنہوں نے کبھی سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے کا مسئلہ اٹھایا۔ یہی نہیں، سال 1999 میں انہوں نے اسی مسئلہ پر این سی پی کی بنیاد رکھی اور کانگریس سے الگ ہو گئے۔ لیکن الگ پارٹی ہونے کے باوجود این سی پی کی سیاست کانگریس کے ساتھ جاری رہی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ملک کی موجودہ سیاست کی بیترنی سے اگر کوئی کانگریس کو پار کرا سکتا ہے تو وہ شرد پوار ہی ہیں۔ ویسے پوار کے تقریباََ تمام اپوزیشن پا رٹیوں سے اچھے تعلقات ہیں۔کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ پارٹی 2024 کے انتخابات سے پہلے کسی قیمت پر کمزور دکھائی نہیں دے گی۔ انھیں یقین ہے کہ شردپوار کانگریس کے لیے مشکل کشا بن سکتے ہیں۔
اِدھر آر جے ڈی سربراہ لالو یادو کے بعد اب بہار کے نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو نےدعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کی 19 دسمبر کو ہوئی میٹنگ بڑے خوش گوار نتائج کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ہے تیجسوی یادو کا کہنا ہے کہ ’’انڈیا‘‘ میں شامل سبھی جماعتیں متحد ہیں۔  تیجسوی نے’’انڈیا‘‘اتحاد کی میٹنگ کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں لالو یادو اور نتیش کمارکی غیر موجودگی کے سوال پر میڈیا پر طنز کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’انڈیا‘‘ اتحاد کی میٹنگ ختم ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایک یا دو لوگ پریس کانفرنس میں جائیں گے اور بریفنگ دیں گے۔چند صحافیوں کی اپنی ذہنیت ہے ، اپنی ذہنی تسکین کے لیے وہ اپنے ڈھنگ کی خبریں چلاتے ہیں۔ ایسا کرنے سے انھیں کچھ ٹی آر پی تو مل جاتاہے، لیکن ان کی ساکھ گر جاتی ہے۔ اس سے پہلے آرجے ڈی سربراہ لالو یادو نے بھی انڈیا الائنس کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ناراضگی کی افواہ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انڈیا الائنس میں سب ایک ہیں، سیٹوں کی تقسیم بھی جلد ہوگی۔ میڈیا میں جو کہا جا رہا ہے وہ بالکل غلط ہے۔ آر جے ڈی سربراہ نے میڈیا پر ایک طرف الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہم جو بھی فیصلہ کرتے ہیں، میڈیا کے لوگ اس کے   برعکس نیوز چلاتے ہیں۔ جب میٹنگ ختم ہو جا تی ہےتو ہر کوئی پریس کانفرنس میں نہیں جاتا ہے۔نتیش کمار اور ہم سب مل کر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے جے ڈی یو کے قومی صدر راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ کے سیٹ شیئرنگ کے حوالے سے دیئے گئے بیان کو بھی درست قرار دیا اور کہا کہ للن سنگھ کو جے ڈی یو صدر کے عہدے سے ہٹانے جیسی سی باتیں فالتو ہیں۔ 2024 کے پارلیمانی انتخابات اور اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا کے حوالے سے لالو پرساد یادو اور بہار کے ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو کا دعویٰ ہے ’’ آل از ویل‘‘۔
***