تاثیر،۲۶ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
غزہ،26دسمبر:غزہ کی جنگ کے 80 ویں دن اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں شدید بمباری کی، مغربی کنارے کے شہر بیت لحم میں فلسطینیوں کے لیے کرسمس کی ایک اداس رات کے بعد شہری فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ فلسطینی عوام کے مصائب کے خاتمے کے لیے کسی فوری جنگ بندی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ اہالیان غزہ کو ایک ناقابل بیان انسانی المیے کا سامنا ہے۔ علاقے میں قحط کا منظر ہے اور پٹی میں ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں اور تمام مکینوں کے اسرائیلی جارحیت یا بھوک کے باعث ختم ہوجانے کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔
حالیہ پیش رفت میں فلسطینی طبی حکام نے بتایا کہ وسطی غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فضائی حملے میں مرنے والوں کی تعداد 106 ہو گئی ہے۔ یہ اعلان اتوار کی شب المغازی پناہ گزین کیمپ میں ہونے والے فضائی حملے کو غزہ پر مہلک ترین فضائی حملوں میں شامل کر رہا ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ سات اکتوبر کے بعد سے غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 20674 اور زخمیوں کی تعداد 54536 ہوگئی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 250 فلسطینیوں جاں بحق ہوگئے ہیں۔پیر کو ہی اسرائیلی فوج نے وادی غزہ کے قریب البریج کیمپ کے مکینوں سے فوری طور پر انخلا کا مطالبہ کیا۔ العربیہ اور الحدث کے نامہ نگار نے غزہ کی پٹی کے اطراف میں واقع بستیوں پر دوبارہ میزائلوں کی بمباری کی اطلاع دی۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے دیر البلح کے مغرب میں واقع شیخ محمد الیمانی کالونی میں انسانی مقاصد کے لیے مقامی وقت کے مطابق صبح دس بجے سے دوپہر دو بجے تک فوجی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔اسرائیلی فوجی ترجمان اویچائی ادرائی نے ’’ایکس‘‘ پر کہا کہ فوج خان یونس کے مغرب میں واقع بائی پاس کے ذریعے شہریوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر نقل و حرکت کی اجازت دے گی۔

