تاثیر،۲۷ دسمبر۲۰۲۳:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ ، 27 دسمبر:وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بدھ کے روز اپنی رہائش گاہ پر قانون ساز کونسل سمیت کابینہ کے دو وزراء سے ملاقات کی۔ دریں اثنا نتیش کمار کے سب سے زیادہ بھروسہ مند اور سینئر جے ڈی یو لیڈر اور وزیر خزانہ وجے چودھری نے کل کے واقعات سے لے کر آج تک پورے معاملے کی صورتحال کو واضح کیا۔
وجے چودھری نے کہا ہے کہ ریاست میں چار لاکھ سے زیادہ کنٹریکٹ اساتذہ تھے، اب انہیں ریاستی ملازمین کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار کے اس فیصلے پر اظہار تشکر کرنے کے لیے ا?ج تقریباً 6 ایم ایل اے اور کچھ ایم ایل سی پہنچے تھے۔ ان لوگوں نے سب سے پہلے مجھ سے رابطہ کیا، اس لیے ہم سب ان کے ساتھ وزیر اعلیٰ سے اظہار تشکر کرنے آئے۔ بس اتنی ہی سی بات تھی۔ اس کے علاوہ یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ وجے چودھری نے کہا کہ آج لوگ پارٹی سے متعلق کسی مسئلہ پر بات کرنے کے لئے جمع نہیں ہوئے تھے۔ تمام لوگ جو آج آئے ہیں کل کابینہ میں ہونے والے فیصلے پر اظہار تشکر کرنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ آپ لوگ بلاوجہ پریشان ہو رہے ہیں۔ جب وجے چودھری سے للن سنگھ کا حال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے کل بھی کہا تھا اور آج پھر کہہ رہا ہوں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ درست نہیں کہ ہمارے قومی صدر نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ بالکل ایک فریب ہے۔ کل انہوں نے خود کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ بات بالکل فر ضی ہے۔ اس کے باوجود ا?پ لوگ اس معاملے کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے ہیں؟ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی۔
بی جے پی اور اپیندر کشواہا کے دعوؤں پر جے ڈی یو لیڈر نے کہا کہ میں بار بار کہتا ہوں کہ اگر آپ مجھ سے کسی واقعہ کے بارے میں پوچھیں تو میں بتا سکتا ہوں، لیکن کوئی لیڈر کیا کہہ رہا ہے، کیا نہیں کہہ رہا، ہم نہیں جانتے۔ اس پر کچھ بھی اگر آپ کسی چیز کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو مجھ سے پوچھیں۔ کس نے کیا کہا ، کیا نہیں کہا۔ مجھے یہ پوچھنے اور اس پر بولنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے علاوہ جے ڈی یو کے بی جے پی کے ساتھ دوبارہ اتحاد کرنے کے سوال پر وجے چودھری نے کہا کہ بی جے پی ہماری طرف نہیں دیکھ رہی ہے۔ سشیل مودی کو کوئی نہیں پوچھتا خاص کر بی جے پی میں بھی۔ اس لیے وہ ادھر ادھر بھٹکتے رہتے ہیںاور یہ سب باتیں کہتے رہتے ہیں۔

