تاثیر،۱ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ایم ایل اے کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے بھلے ہی کچھ لوگ بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو سیاسی طور پر مضبوط نہیں مانیں، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بہار اسمبلی میںجے ڈی یو کے ممبران کی تعداد نسبتاََ بھلے ہی کم ہو ، لیکن سیاسی طور پر وہ اس وقت سب سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہیں۔چنانچہ بہار میں نتیش کمار کو ساتھ رکھنا این ڈی اے اوراپوزیشن تحاد دونوں کی مجبوری ہے۔ نتیش کمار کے تئیں بی جے پی لیڈروں کے لہجے میں اچانک تبدیلی کی وجہ یہی ہے۔ بالکل یہی صورتحال اپوزیشن اتحاد کے ساتھ بھی ہے۔ اپوزیشن اتحاد کو خدشہ ہے کہ اگر نتیش پارٹی چھوڑ دیتے ہیں تو بہار میں جو کھیل بن رہا ہے وہ یکایک بگڑ جائے گا۔ دوسری جانب اگر این ڈی اے 2019 کے لوک سبھا انتخابات کی تاریخ کو دہرانا چاہتا ہے تو اس کا خواب نتیش کے بغیر شاید ہی پورا ہوپا ئےگا۔
بہار اسمبلی میں ایم ایل اے کی تعداد کے لحاظ سے نتیش کمار کی پارٹی تیسرے نمبر پر ہے۔ جے ڈی یو کے کل 45 ایم ایل اے ہیں۔ اتنے کم ایم ایل اے کے ساتھ نتیش کمار عام حالات میں کبھی وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے تھے ۔ پھر بھی وہ پوری طاقت کے ساتھ سی ایم کی کرسی پر بر قرار ہیں۔ اگر بی جے پی نے انہیں 2020 میں وزیراعلیٰ بنایا تو ایسا اس کی مہربانی کی وجہ سے نہیں بلکہ مجبوری کی وجہ سے ہوا تھا۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر انہیں وزیر اعلیٰ نہیں بنایا گیا تو نتیش کے لیے عظیم اتحاد کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ بی جے پی کے ریاستی سطح کے لیڈروں نے شاید اتنا آگے کا نہیں سوچا تھا۔ نتیش کو سی ایم بنایا گیا، لیکن اس وقت کے ریاستی صدر سے لے کر چھوٹے بڑے لیڈروں نے ہر موقع پر ان کا مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نتیش ناراض ہو گئے اور انہوں نے عظیم اتحاد سے ہاتھ ملا لیا۔عظیم اتحاد میں شامل ہونے کے بعد بھی ان کی سی ایم کی کرسی برقرار رہی۔ جے ڈی یو ایم ایل ایز کی تعداد بھلے ہی کم ہے، لیکن یہ تعداد ایسی ہے، جو کسی کو بھی نتیش کو سی ایم بنائے رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔ جے ڈی یو ایم ایل ایز کی یہی تعداد نتیش کمار کو سی ایم بنائے رکھنے کے لئے این ڈی اے اور عظیم اتحاد دونوں کو مجبور کرتی رہی ہے۔
قابل ذکر کہ سال 2014 میں نتیش کمار نہ تو این ڈی اے کے ساتھ تھے اور نہ ہی عظیم اتحاد کے ساتھ۔ اس کے باوجود انہیں لوک سبھا انتخابات میں تقریباً 16 فیصد ووٹ ملے۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں صرف دو سیٹوں پر کامیابی ملی تھی اور بی جے پی کو 22 سیٹیں ملیں۔ بی جے پی کو 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں نتیش کے ساتھ کا خوب فائدہ ملا۔ این ڈی اے نے بہار کی کل 40 لوک سبھا سیٹوں میں سے 39 پر قبضہ کر لیا۔ 2015 کے اسمبلی انتخابات میں جب نتیش آر جے ڈی کے ساتھ گئے تو بہار میں حکومت بنانے کے لیے جو سیٹیں درکار تھیں وہ عظیم اتحاد کے پاس گئیں۔ یعنی نتیش نے تب بھی اپنی طاقت کا احساس دلایا۔یہ الگ بات ہے کہ اب آر جے ڈی اپنے لیڈر تیجسوی یادو کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتا ہے، لیکن وہ نتیش کمار کے مزاج سے واقف ہے۔وہ کسی بھی قیمت پر نتیش کمار کو ناراض نہیں ہونے دینا چاہتا ہے۔پارٹی کو معلوم ہے کہ اس سے اسے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ سب سے پہلے، آر جے ڈی کے لیے تیجسوی کو نتیش کی حمایت کے بغیر وزیر اعلی بنانا ناممکن ہے۔ ان کے پاس فی الحال عظیم اتحاد کے بینر تلے 115 ایم ایل اے ہیں۔ حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ تعداد 122 ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب تیجسوی کو سی ایم بننے کے لیے 2025 تک انتظار کرنا پڑے گا، تو وہ جے ڈی یو کیوں چھوڑیں گے؟ جبکہ نتیش کمار نے خود تیجسوی کی قیادت میں 2025 کے اسمبلی انتخابات لڑنے کا اعلان کیا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آر جے ڈی تیجسوی کو تاج پہنانے میں اتنی جلدی بازی میں کیوں نظر آ رہاہے۔کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کہ آر جے ڈی نے جے ڈی یو ایم ایل ایز کو توڑنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لالو پرساد یادو نے یہ کام للن سنگھ کو اس وقت سونپا تھا ،جب وہ جے ڈی یو کے صدر تھے۔ کہا یہ بھی جا رہا ہے کہ للن سنگھ نے ایسے درجن بھر ایم ایل ایز کو متحرک بھی کیا تھا۔ان سے پارٹی کے قومی صدر کے عہدے سے استعفیٰ کا لیا جانا اسی واقعہ سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔ اس طرح کی خبروں میں کتنی سچائی ہے یہ تو چند دنوں کے بعد ہی پتہ چلے گا، لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے رویہ سے نتیش کمار ناراض ہوں۔ حالانکہ وہ کبھی کھل کر اپوزیشن اتحاد چھوڑنے کی بات نہیں کرتے ہیں۔ حالانکہ نتیش کمار کے حالیہ چند اقدام این ڈی اے کی طرف ان کے جھکاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بی جے پی لیڈروںکے یوم پیدائش یا یوم وفات کی ریاستی تقریبات کو نتیش کے ایسے ہی اقدامات کا اشاریہ مانا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ آر جے ڈی کو لگتا ہے کہ اگر نتیش این ڈی اے میں شامل ہوجاتے ہیں ، تو آر جے ڈی کے ہاتھ میں صفر کے علاوہ کچھ بھی نہیں رہ جائے گا۔اسی وجہ سے کہ آر جے ڈی کی بے چینی بڑھی ہوئی ہے۔ لالو پرساد یادو نے 2023 کے آخری دن اپنی پارٹی کے ایم ایل ایز اور اسمبلی اسپیکر اودھ بہاری چودھری کو اپنی رہائش گاہ پر بلایا تھا۔قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ جے ڈی یو ایم ایل اے کو توڑنے میں اودھ بہاری چودھری بھی اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ اگر نتیش نے این ڈی اے کے ساتھ جانے کا ارادہ کر لیا ہے تو وہ آر جے ڈی کے کھیل کو خراب کرنے کے لیے اسمبلی کو تحلیل بھی کر سکتے ہیں۔ ایسے میں لوک سبھا کے ساتھ ساتھ بہار میںاسمبلی انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔ نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کے بغیر آر جے ڈی کی ان انتخابات میں کیا حالت ہوگی وہ سبھی سمجھ رہے ہیں۔اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا ‘‘ میں جب تک نتیش کمار کو باوقار جگہ نہیں ملتی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان صرف کانگریس کو ہی نہیں بلکہ آر جے ڈی سمیت اتحاد سے وابستہ سبھی جماعتوں کو اٹھانا پڑے گا۔اوریہ صورتحال بی جے پی کے لئے نیک فال ثابت ہوگی۔
***************

