تکرار ہی کرے گی بی جے پی کا راستہ ہموار

تاثیر،۲ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نریندر مودی کے گزشتہ 10 سالوں کے دور حکومت نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو پورے ملک میں پھیلنے کا ایک شاندار موقع فراہم کیا ہے۔ پی ایم مودی اپنی مقبولیت کی وجہ سے ہر الیکشن میں مضبوط ہوئے ہیں۔ بی جے پی کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے اپوزیشن کو کمزور کرنے کا فن سیکھ لیا ہے۔ اپنے اسی فن کی بنیاد پر پارٹی 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں 303 سیٹوں کا ریکارڈ توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن کی رفتار نا گفتہ بہہ حد تک سست ہے۔۔چناوی ایجنڈا ابھی واضح نہیں ہے۔جبکہ بی جے پی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ بات چیت تقریباً مکمل کرلی ہے۔ اس سے بی جے پی کو 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں فائد ے کا امکان بڑھ گیا ہے۔
  2014  میں، بی جے پی کا نعرہ ’’ابکی بار مودی سرکار‘‘ تھا، 2019 میں ’’مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ او ر ’’ایک بار پھر مودی سرکار‘‘ تھا۔ 2024 کے انتخابات کے لیے ’’مودی کی گارنٹی‘‘ اور ’’پھر آئے گا مودی‘‘ جیسے نعروں سے چناوی ماحول تیارکیا جانے لگا ہے۔بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ جب پی ایم مودی کہتے ہیں کہ ’’یہ مودی کی گارنٹی ہے‘‘، تو لوگوں میں ایک عجیب طرح کا اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ بی جے پی  کے پاس ڈیلیوری کا ٹریک ریکارڈ ہے اور یہ لوگوں کو یقینی بناتا ہے کہ اگر وہ وعدہ کرتا ہے تو وہ ڈیلیور کرے گا۔یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے ترقیاتی ایجنڈے کو شہری ووٹروں اور دیہی نوجوانوں کی حمایت حاصل ہے۔
  شہری ووٹرز تقریباً دو دہائیوں سے بی جے پی کے ساتھ ہیں۔ اس بار بی جے پی نوجوانوں کو راغب کرنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔’’ریفارم، پرفارم اینڈ ٹرانسفارم‘‘، ’’میک ان انڈیا‘‘ جیسے نعرے نوجوانوں میں بہت مقبول ہیں۔ پارٹی نے نوجوانوں کے دل جیت کر کئی الیکشن جیتے ہیں۔ 2024 میں بی جے پی مزید نوجوانوں کو شامل کرکے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جی ۔20  اور چندریان جیسے پروگراموں نے نوجوانوں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ پروگرام کے مطابق انتخابات سے پہلے بی جے پی کے سرکردہ رہنما مختلف شہروں میں سماج کے بااثر لوگوں کے ساتھ بند کمرے میں ملاقاتیں کریں گے۔ ’’ترقی یافتہ بھارت سنکلپ یاترا‘‘ کے ذریعے حکومت نوجوانوں کو ترقی یافتہ بھارت کا برانڈ ایمبیسیڈر بننے کی دعوت دے رہی ہے۔ ظاہر ہے پارٹی کی یہ حکمت عملی 2024 میں پارٹی کے لیے ایک مضبوط ووٹ بینک ضرور بنائےگی۔
  2014 میں بی جے پی مرکز میں برسراقتدار آئی، تب پارٹی کے صدر امت شاہ نے نئے ذات کی بنیاد پر جماعتوں کو پارٹی میں شامل کرنا شروع کیا ،جو ریاستوں میں عددی لحاظ سے اہم نہیں ہوسکتے، لیکن وہ مل کر ایک اہم ووٹ بینک بن گئے۔ چھوٹی ذات پر مبنی علاقائی جماعتوں کو پارٹی میں شامل کرنے سے، ان ذاتوں میں بی جے پی کی موجودگی اور قبولیت میں اضافہ ہوا۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پارٹی نے اپنے خصوصی پروگراموں اور قیادت کی تشہیر کرکے قبائلی برادری کو اپنے ووٹ بینک میں شامل کیا ہے۔ دوسری جانب سیاسی ایکویشن کی وجہ سے جنوب میں کانگریس کی مضبوطی پی جے پی کے لئے پریشانی کا سبب رہی ہے۔ جنوبی بھارت میں چناؤ جیتنا بی جے پی کے لئے ہمیشہ مشکل رہا ہے۔پارٹی نے 2019 میں سب سے اچھا مظاہرہ کیا تھا۔اس وقت کرناٹک، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری سے 130 لوک سبھا سیٹوں میں سے محض 29 پر کامیابی ملی تھی ۔ ان میں سے 25 کرناٹک اور 4 کا تعلق تلنگانہ سے تھا۔ اس سال کے شروع میں کرناٹک میں اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد کانگریس کو تلنگانہ میں جیت کے ساتھ جنوب میں مزید تقویت ملی ہے۔ اس کی وجہ سے کانگریس نے لوک سبھا سیٹوں کے معاملے میں بی جے پی کو چیلنج دینا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ بی جے پی کرناٹک میں اپنی گرفت برقرار رکھنے کے لیے جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس) کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ تلنگانہ میں وزیر داخلہ امت شاہ نے لوک سبھا کی 17 میں سے 10 سیٹیں جیتنے کا ہدف رکھا ہے۔ بی جے پی تمل ناڈو میں اے آئی اے ڈی ایم کے کے دو گروپ کو متحد کرنے پر کام کر رہی ہے اور پارٹی کے ساتھ اتحاد کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس طرح بی جے پی کے سرکردہ رہنما جنوب پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں کیونکہ پارٹی اپنے ماضی کی کارکردگی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔اس کے علاوہ بی جے پی مہاراشٹر میں شیوسینا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے الگ ہونے والے گروپ کے ساتھ اتحاد میں اقتدار میں ہے۔ بی جے پی نے 2019 میں 23 سیٹیں جیتی تھیں اور اس کی حلیف شیوسینا نے 18 سیٹیں جیتی تھیں، جس سے این ڈی اے کی کل تعداد 41 ہوگئی۔ بی جے پی 2024 میں یہاں 25 سے زیادہ سیٹوں پر امیدوار کھڑا کرے گی۔ 2019 میں بھی 25 سیٹوں پر الیکشن لڑا تھا۔ ساتھ ہی بی جے پی قیادت مغربی بنگال اور بہار میں اپنی تعداد برقرار رکھنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے۔ امِت شاہ نے حال ہی میں بنگال کا دورہ کیا اور ریاست میں 35 سیٹیں جیتنے کا ہدف رکھا۔ تاہم، 2021 کے اسمبلی انتخابات کے بعد بہت سے ریاستی لیڈر ٹی ایم سی میں واپس چلے گئے۔ بہار میں نتیش کمار کے جے ڈی یو کے این ڈی اے سے نکلنے کے بعد، بی جے پی کے لیے چیلنج یہ ہے کہ اس بار نتیش کمار اس کے سامنے ہوں گے۔ مگر اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی انتخابی حکمت عملی تو دور ابھی سیٹوں کی تقسیم پر ہی تکرار ہے۔لگتا ہےاس بار یہ تکرار ہی بی جے پی کا راستہ ہموار کرے گی۔
**********