مودی حکومت کا میڈیا پر دباؤ ناقابل برداشت ہے: ڈاکٹر اکھلیش

تاثیر،۳ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے، جمہوریت کے تمام ستونوں پر یکے بعد دیگرے حملے کر رہی ہے۔ یہ ہر مخالف آواز اور ہر تنقید کو کچلنے کی مذموم کوشش میں لگی ہے۔ میڈیا کے خلاف عجیب خوف کی فضا قائم کر دی گئی ہے۔ میڈیا سے وابستہ افراد اور بالخصوص صحافیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ خبروں میں دیکھا کہ ای ڈی نے جھارکھنڈ کے وزیر اعلی کے میڈیا مشیر کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پولیس کی جانب سے ملک کے معروف صحافیوں کو ہراساں کرنے کا کام پہلے ہی سے جاری ہے۔ کانگریس یہ سب برداشت نہیں کر سکتی۔ بہار کانگریس کے صدر ڈاکٹر اکھلیش پرساد سنگھ نے بدھ کو ہوٹل موریہ میں منعقدہ ایک خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔

میڈیا پر ہورہے مظالم کے خلاف سخت حملہ  کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ملک کے کئی نامور صحافیوں کو مودی حکومت نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ان میں اجیت انجم، رویش کمار، پنیہ پرسون باجپائی اور ابھیسار شرما وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی صورتحال مکمل ایمرجنسی جیسی ہے۔لیکن ایمرجنسی کے دوران بھی میڈیا احتجاج کے طور پر اپنے اداریےکی جگہ خالی چھوڑ دیتا تھا اور باقی صفحات پر حکومت کی تنقید ہوا کرتی تھی۔ آج تنقید کریں گے تو ای ڈی چھاپہ مارے گی۔ آخر بی جے پی میڈیا سے اتنا ڈرتی کیوں ہے؟ ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ مودی جی نے پچھلے 10 سالوں میں ایک بھی پریس کانفرنس کیوں نہیں کی۔ جمہوریت کے چوتھے ستون کی ایسی قابل رحم حالت کبھی نہیں رہی۔ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے دور میں میڈیا کے لوگ ان کے ساتھ چلتے تھے۔ سارا ماحول بدل گیا ہے۔

اس پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کے جو دوسرے لیڈران موجود تھے اُن میں کانگریس قانون سازیہ پارٹی کے لیڈر ڈاکٹر شکیل احمد خان، سابق ریاستی صدر ڈاکٹر مدن موہن جھا، برجیش پانڈے، کپل دیو پرساد یادو، راجیش راٹھوڑ، لال بابو لال، آنند مادھو، ڈاکٹر ونود شرما، اسیت ناتھ تیواری اور گیان رنجن شامل ہیں۔