آخر الیکشن بھی تو جیتنا ہے !

تاثیر،۳ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

لوک سبھا انتخابات رواں سال 2024 میں ہی ہونے والے ہیں۔اس سے پہلے بی جے پی نے اپنے پتے کھولنا شروع کردیئے ہیں۔ مانا جا رہا ہے کہ 22 جنوری کو رام مندر میں رام للا کی پوجا کے بعد ملک میں ایک بار پھر ’’ہندوتو‘‘کی لہر آئے گی۔ اس کے بعد نمبر آئے گا شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے نفاذ کا۔ مرکزی حکومت جلد ہی تقریباً چار سال قبل (2019 میں) پارلیمنٹ میں منظور شدہ اس قانون کو نافذ کرنے کا ارادہ کر لیا ہے۔ انتخابات کے اعلان سے قبل مرکزی حکومت اس سلسلے میں نوٹیفکیشن جاری کر نے والی ہے۔ دہلی کے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف 100 دن طویل تحریک چلی تھی۔ آسام، اتر پردیش، مغربی بنگال اور بہار میں بھی زبردست احتجاج ہوا تھا، لیکن اب جبکہ لوک سبھا انتخابات ، 2024 کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے۔ مرکزی حکومت اس کے نفاذ کے سلسلے میں نوٹیفیکیشن جاری کرنے کی پوری تیاری کر چکی ہے۔ نوٹیفیکیشن جاری ہوتے ہی پورے ملک میں سی اے اے شہریت ترمیمی قانون نافذ ہو جائے گا۔اس قانون کے تحت مسلمانوں کو چھوڑ کر دیگر تمام اہل لوگوں کو ملک کی شہریت دی جا ئے گی۔دوسری جانب جیسے جیسے لوک سبھا انتخابات کے دن قریب آرہے ہیں، ملک میں ایک بار پھر یونیفارم سول کوڈ یا یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کو لے کر بحث چھڑ گئی ہے۔ ایک ملک میں یکساں قانون کے مطالبے کو پورا کرنے پر زور دیتے ہوئے مرکزی حکومت نے اسے بھی نافذ کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرقیادت مرکزی حکومت کی طرف سے لائے گئے سی اے اے قانون کے تحت 31 دسمبر 2014 تک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے بھارت آئے ہوئے تمام غیر مسلموں (ہندو، سکھ، بدھ، پارسی اور عیسائی) کوبھارت کی شہریت دینے کا انتظام کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ نے سال 2019 میں اس بل کو منظوری دی تھی اور اس کے بعد میں اسے صدر کی منظوری مل گئی تھی۔

شہریت ترمیمی قانون کے تحت بھارتی شہریت کی تعریف طے کی گئی ہے۔ اس قانون کے حوالے سے آج یہی بات کہی جا رہی ہے کہ اس کے نفاذ میں چار سال سے زیادہ کی تاخیر ہوئی ہے۔ بھارت میں باہر سے آئی ہوئی صرف مظلوم اقلیتیں ہی آن لائن درخواست دے کر بھارت کی شہریت حاصل کر سکیں گی۔ درخواست گزاروں کو بتانا ہو گا کہ وہ کب بھارت آئے تھے۔ اگر درخواست گزاروں کے پاس پاسپورٹ یا دیگر سفری دستاویز نہ ہوں تو بھی اہل افراد شہریت کے لئے درخواست دے سکتے ہیں۔ پہلے وزارت داخلہ اس درخواست کے حوالے سے تحقیقات کرے گی اور اس کے بعد شہریت جاری کی جائے گی۔ صرف متعلقہ تین ممالک سے آنے والے غیر مسلم تارکین وطن ہی درخواست دینے کے اہل ہوں گے۔ 2014 کے بعد درخواست دینے والے درخواست دہندگان کی درخواستوں میں نئے قواعد کے مطابق تبدیلی کی جائے گی۔انھیںکسی بھی طرح کی دستاویز فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ایک رپورٹ کے مطابق لوک سبھا انتخابات کے اعلان سے پہلے پہلے شہریت ترمیمی قانون متعارف کرا دیا جائے گا۔زیادہ امکان ہے کہ رواں ماہ میں یا زیادہ تاخیر ہوئی تو فروری ماہ میں اس کا نفاذ عمل میں آ جائے گا۔اس قانون کے نفاذ میں تاخیر کی بہت سی وجوہات بتائی جا رہی ہیں، جن میں سے ایک اہم وجہ مختلف ریاستوں میں اس کے خلاف زبردست احتجاج ہے۔

یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ 2019 میں جب سی اے اے قانون منظور ہوا تھا تو اس کے فوراً بعد ملک بھر میں اس کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہو گیا تھا۔اسی وجہ سے اسے اس وقت نافذ نہیں کیا جا سکا تھا۔ اب رولز تیار کر لئے گئے ہیں۔ آن لائن پورٹل بھی تیار ہے۔قانون کے عملی نفاذ کے بعد سےشہریت دینے کا آن لائن عمل شروع ہو جائے گا۔ درخواست گزار اپنے موبائل فون سے بھی درخواست دے سکتے ہیں۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی گزشتہ ہفتے مغربی بنگال میں بی جے پی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ اشارہ دیا تھا کہ ملک میں جلد ہی سی اے اے نافذ ہونے والا ہے۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا تھا ’’ دیدی اکثر ہمارے پناہ گزینوں سے سی اے اے کی بات کرتی ہیں، وہ بھائیوں کو گمراہ کرتی ہیں۔ میں واضح کرتا ہوں کہ شہریت قانون ملک کا قانون ہے اور اس کے نفاذ کو کوئی نہیں روک سکتا ہے۔سبھوںکو شہریت ملنے والی ہے۔یہ ہماری پارٹی کا عزم ہے۔‘‘ اِدھرگزشتہ دو سالوں کے دوران ملک کی 9 ریاستوں کے 30 سے زیادہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس اور ہوم سیکرٹریز کو شہریت ایکٹ 1955 کے تحت افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والے ہندوؤں، سکھوں، بدھسٹوں، جینوں، پارسیوں اور عیسائیوں کو ہندوستانی شہریت دینے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔یعنی مسلمانوں کو چھوڑ کر بھارت کی ان 30 ریاستوں میں رہ رہے تمام تارکین وطن کو بھارت کی شہریت دینے کا کام پہلے سے ہی چل رہا ہے۔اپوزیشن جماعت کے بعض لیڈروں کا ماننا ہےکہ حکومت ایک بار پھر ملک میں’’ہندوتو‘‘ کی ہوا چلانے کا موڈ بنا چکی ہے۔ وہ بھی کیا کرے ، آخر الیکشن بھی تو جیتنا ہے !
***************************