انجمن شوسیولٹریری سوسائٹی ارریہ نے صحافی جمشید عادل کا کیا والہانہ استقبال اور اعزازی تقریب کا انعقاد۔

تاثیر،۵ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

ایک خوب صورت شام جمشید عادل علیگ کے نام۔
ارریہ :- ( مشتاق احمد صدیقی ) ملک کے مقتدر اور مؤقر صحافی اور روزنامہ “سچ کی آوازدہلی” کے موجودہ ریزیڈنٹ ایڈیٹر”جمشید عادل علیگ” کا گزشتہ کل قلب شہر کے معروف ومشہور تعلیمی وتربیتی ادارہ “مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ” کے کانفرنس ہال میں “انجمن شوسیو لٹریری سوسائٹی ارریہ”کے زیر اہتمام ایک اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا، اس اعزازی تقریب کی صدارت ارریہ شہر سے جاری سہ ماہی رسالہ ( میگزین ) “ابجد” کے مدیر( ایڈیٹر) رضی احمد تنہا” نے کی اور نظامت کے فرائض کوانجمن کے فعال ممبر” عبد الغنی” لبیب نے بحسن وخوبی انجام دیا۔
حمد وصلوۃ کے بعد مدرسہ کے پرنسپل اور انجمن کے سرگرم رکن اور مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ کے پرنسپل”مولانا شاہدعادل قاسمی” نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا بعدہ گل پیشی اور شال پوشی سے انجمن کے اراکین پرویزعالم علیگ، ماسٹر دین رضا اختر، ماسٹر رہبان علی راکیش، مدرسہ کے صدر نوشاد عالم، سکریٹری مہتاب عالم، ممبر مدرسہ ناصر عالم، رضی احمد تنہا، پروفیسر احسن عالم، ماسٹر الحاج جعفر رحمانی نے مہمان محترم کا شاندار اور والہانہ استقبال کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا۔ شہر ارریہ کے ادباء، شعراء اور دیگر شعبۂ حیات کے معززین نےجمشید عادل علیگ کے صحافتی خدمات اور کارہاے نمایاں کاتذکرہ کرکے انہیں مبارکباد پیش کیا، مذکورہ بالا شخصیتوں کے علاوہ مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر مولانا ارشد ہمراز علیگ، صحافی جسیم الدین، قاری عبد الباری زخمی، میگا سوشل میڈیا کے ڈائریکٹرحماد حیدر، سوشل میڈیا سیمانچل ڈائری کے ڈائریکٹرفیصل کلیم۔ صحافی فیروز عالم ، ڈی ڈی ون ٹی وی کے کیمرہ مین شاہد بشیر، مدرسہ اسلامیہ گیاری کے پرنسپل مولانا مصور عالم ندوی، مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ کے مدرس وادیب مفتی ہمایوں اقبال ندوی، ماسٹر ذکریا نسیم، تعلیم نوبالغان کے فیسلیٹر غالب خان نے بھی مہمان مکرم جمشید عادل علیگ کے گوشۂ خدمات پر سیر حاصل گفتگو کیں، مفتی حسین احمد ہمدم کے کلام سے عبدالباری زخمی نے اپنی مترنم اور مسحور کن آواز سے محفل کو گل گل زار بنادیا اور خوب خوب داد تحسین حاصل کیں۔
واضح رہے کہ قابل ذیشان محترم مہمان جمشید عادل علیگ ہماری مٹی کی پیداوار ہیں، ہفت روزہ نئ دنیا، روزنامہ راشٹریہ سہارا کے علاوہ دسیوں اخباروں اور مجلوں میں ان کے کالم کو شوق سے پڑھا جاتا ہے، ان کے اشہب قلم کا جادو ہمیشہ سر چڑھ کر بولتا رہا ہے، ان کے قلم کااعتبار ادبی دنیا میں مسلم ہے، ان کی قلمی شناخت اپنی جگہ تسلیم شدہ ہے، ان کی خورد نوازی اور نسل نو کی آبیاری مشہور ہے، ان کی رہنمائی اس میدان خاص میں نہایت ہی مشفقانہ ہے، میڈیا ہاؤس کے قیام، میڈیا کے فیلڈ میں اچھی خاصی تناسب کی فکر ایک اہل دل کی علامت ہی متصور ہوسکتی ہے، ان کا قلم جہاں آج بھی عنفوانِ شباب پرہے وہیں ان کی حیات اور مقصد حیات بھی نہایت ہی پاکیزہ اور خوش کن ہیں، ان کی عاجزی و انکساری،ان کا تحمل، ان کی جہد مسلسل اور ان کی صفات حمیدہ یقینا آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں، شرکائے مجلس نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرکے انہین بہترین خراج تحسین پیش کیا اور ان کی صحت وتندرستی والی لمبی عمر کےلئے دعائیں کی گئیں۔