امن اور ترقی کی راہ مزید ہموار ہوگی

تاثیر،۸ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

بنگلہ دیش کی موجودہ وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ نے مسلسل چوتھی بار عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔گزشتہ اتوار کو ہوئے عام انتخابات میں عوامی لیگ کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ویسے یہ پہلے سے ہی مانا جا رہا تھا کہ عوامی لیگ کی جیت یقینی ہے۔ ووٹنگ محض رسم ادائیگی تھی کیو ں کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی سمیت تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا۔  بنگلہ دیش میں جمہوریت کو دبانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کے درمیان دنیا کی نظریں اس انتخاب پر تھیں، لیکن شیخ حسینہ کی جیت بھارت کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی انداز میں مماثلت پاتے ہیں۔  ان کا ماننا ہے کہ شیخ حسینہ اور نریندر مودی دونوں مضبوط شبیہہ رکھنے والے لیڈر ہیں۔ دونوں کی اپنی اپنی پارٹیوں پر بہت اچھی گرفت ہے۔  مودی اور حسینہ نے اپنے اپنے ملکوں میں معیشت کو اچھی رفتار دی ہے۔ نریندر مودی کی طرح شیخ حسینہ کی خارجہ پالیسی کو بھی دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان توازن پیدا کر نے والا سمجھا جاتا ہے۔ مودی کے ’’نیو انڈیا‘‘ کی طرح شیخ حسینہ بھی ’’نئے بنگلہ دیش‘‘ کا نعرہ لگاتی ہیں۔  بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 4100 کلومیٹر کی سرحد ہے اور ان کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور اقتصادی تعلقات ہیں۔ اس لیے ایک مستحکم، خوشحال اور دوستانہ بنگلہ دیش بھارت کے مفاد میں ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت شیخ حسینہ کی حکومت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا نظر آرہا ہے۔  بنگلہ دیش جنوبی ایشیا میں اس کا سب سے قریبی اور مضبوط اتحادی ہے۔
  بھارت کی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی میں بنگلہ دیش کو کافی ترجیح دی جا رہی ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں، بھارت نے بنگلہ دیش کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے دل کھول کر مالی امداد دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار سنجے بھاردواج بھارت اور شیخ حسینہ کی قیادت میں بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط تعلقات کی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’عوامی لیگ نے بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کی قیادت کی۔ بنگالی قومیت، سیکولرازم، جمہوریت اور سوشلزم بنگلہ دیش کی بنیادی اقدارہیں۔ بھارت کی بنیادی اقدار ہیںقومیت، سیکولرازم، سوشلزم اور جمہوریت۔ دونوں ملکوں کی اقدار کی یہی مماثلت بھارت اور بنگلہ دیش کی قربت کا سبب ہے۔‘‘
بنگلہ دیش میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی تشکیل ایک فوجی حکومت نے کی تھی۔ اس پارٹی کی بنیاد 1978 میں ضیاء الرحمان نے رکھی تھی۔یہ پاکستان جیسی پالیسیوں پر یقین رکھتی ہے۔اس جماعت نے اپنی جو سماجی بنیاد تیار کی ہے، اس کی پالیسی فوج کی حمایت اور بھارت کی مخالف ہے۔اس کے مقابلے میں بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان عوامی لیگ کی حکومت کے دوران 1971 سے 1975 اور پھر 1996 اور 2009 سے 2024 تک کئی معاہدے ہوئے۔ ان میں دریائے گنگا کے معاہدے سے لے کر دونوں ممالک کے درمیان زمینی سرحد اور بس سروس شروع کرنے تک کے اہم معاہدے شامل ہیں۔اس دوران بھارت بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی بنا۔ بنگلہ دیش بھی ایشیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن گیا۔  شیخ حسینہ کی حکومت کے آنے سے دونوں ملکوں کے تعلقات میں ڈرامائی بہتری آئی۔ حسینہ نے شمال مشرق میں بھارت مخالف سرگرمیوں کو روکنے میں حکومت کی بھرپور مدد کی۔ شیخ حسینہ کے منموہن سنگھ، پرنب مکھرجی، سونیا گاندھی اور ممتا بنرجی کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔ اور جب نریندر مودی اقتدار میں آئے۔ ان کے ساتھ تعلقات اور بھی اچھے ہو گئے۔ حسینہ نے نہ صرف بھارت کے ساتھ بلکہ چین، جاپان اور روس کے ساتھ بھی متوازن خارجہ پالیسی اپنائی۔ لیکن بنگلہ دیش کےبھارت کے ساتھ سب سے قریبی اور مضبوط تعلقات ہیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش خلیج بنگال کے ذریعے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے اقتصادی رابطوں کا اڈہ بنے۔حالیہ دنوں میں بھارت کے دوست جاپان نے بھی بنگلہ دیش میں کافی سرمایہ کاری کی ہے۔امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات میں تناؤ گزشتہ کچھ عرصے سے خبروں میں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ 1971 میں بنگلہ دیش کی جدوجہد آزادی کے دوران پاکستان کا ساتھ دے رہے تھے۔ لہٰذا ،امریکہ بنگلہ دیش کی حسینہ حکومت پر آمرانہ رویہ کا الزام لگاتا رہا ہے۔ جبکہ وہ پاکستان میں جمہوریت کی بدحالی پر بات نہیں کرتا۔
حسینہ نے دہلی میں جی ۔20  سربراہ اجلاس میں جو بائیڈن اور ان کے سینئر مشیروں سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد سے سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے بنگلہ دیش میں بھارت کے مفادات کو اہمیت دینا شروع کر دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ باہمی رشتوں میں آئی تلخی کو کم کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔ اِدھر بھارت بھی چاہتا ہے کہ امریکہ اور بنگلہ دیش کے درمیان مفادات کا تبادلہ ہو۔ امریکہ اور بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات اچھے ر ہیں ، یہ بھارت کے بھی مفاد میں ہے۔ بنگلہ دیش بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہے گا کیونکہ بھارت کی طرح امریکہ بھی بنگلہ دیش کے کپڑوں کا بہت بڑا بازار ہے۔ بہر حال بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ ایک بار پھر وزیراعظم بننے جا رہی ہیں۔وہ پانچویں بار وزیراعظم بنیں گی۔ وہ 2009 سے وزیر اعظم ہیں۔ اس سے قبل 1991 سے 1996 تک وزیراعظم رہ چکی ہیں۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک بار پھر عوامی لیگ کے بر سر اقتدار آنے سے خطے میں امن اور ترقی کی راہ مزید ہموار ہوگی۔
***