تاثیر،۱۰ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
نئی دہلی، 10 جنوری : سپریم کورٹ میں عمر خالد کی ضمانت عرضی پر سماعت ایک بار پھر ملتوی کر دی گئی۔ اب اس معاملے کی سماعت 24 جنوری کو ہوگی۔ عمر خالد کے وکیل کپل سبل کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی گئی ہے۔ سبل نے کہا کہ آئینی بنچ کی سماعت میں موجود ہونے کی وجہ سے وہ آج جرح کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔دراصل عمر خالد کو 2020 کے دہلی فسادات کے پیچھے مبینہ بڑی سازش کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں روک تھام ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ جیل میں ہے۔ ہائی کورٹ سے ضمانت نہ ملنے کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
سپریم کورٹ نے 18 مئی کو دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا تھا۔ اس سے قبل 18 اکتوبر 2022 کو دہلی ہائی کورٹ نے عمر خالد کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج اور شمال مشرقی دہلی میں تشدد دسمبر 2019 اور فروری 2020 کے درمیان ہونے والی میٹنگوں کا نتیجہ تھا جس میں عمر خالد نے بھی شرکت کی تھی۔ عمر خالد کا نام سازش کے آغاز سے لے کر فسادات تک آتا رہا۔ عمر خالد واٹس ایپ گروپ ڈی پی ایس جی اور مسلم اسٹوڈنٹس آف جے این یو کا رکن تھا۔ اس نے کئی میٹنگوں میں شرکت کی۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر چارج شیٹ پر یقین کیا جائے تو یہ واضح طور پر سازش کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ یہ احتجاج جمہوریت میں عام سیاسی مظاہرے کی طرح نہیں تھا بلکہ یہ خطرناک تھا اور اس کے سنگین نتائج نکلے۔ پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں علاقے میں فسادات برپا ہو گیے جو یقیناً دہشت گردانہ کارروائی تھی۔

