تاثیر،۲۴ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ممبئی، 24 جنوری : بمبئی ہائی کورٹ نے بدھ کو مراٹھا لیڈر منوج جارنگے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ممبئی میں ان کے احتجاج کے دوران شہر میں امن و امان کی صورتحال خراب ہوئی تو کارروائی کی جائے گی۔ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو شہر کی حفاظت کو برقرار رکھنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ ہائی کورٹ نے اس کیس کی سماعت 15 دن کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
مراٹھا لیڈر منوج جارنگے نے مراٹھا برادری کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ کرتے ہوئے 26 جنوری سے ممبئی میں غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس تحریک کے دوران منوج جارنگے نے مراٹھا برادری کے لوگوں سے ٹریکٹر اور دیگر گاڑیوں کے ساتھ ممبئی پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ ایڈوکیٹ گنارتنا سداورتے نے بدھ کو ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی کے لوگوں کو جارنگے تحریک کی وجہ سے بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے شہر میں امن و امان کی صورتحال بھی بگڑ سکتی ہے۔
ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی تک منوج جارنگے کو ممبئی میں احتجاج کی اجازت نہیں دی گئی ہے، لیکن ریاستی حکومت احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھے گی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر منوج جارنگے کے احتجاج کے دوران امن و امان خراب ہوتا ہے تو اس کی ساری ذمہ داری جارنگے پر عائد ہوگی اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ایسا نوٹس ہائی کورٹ نے جارنگ کو جاری کیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت 15 دنوں کے لیے ملتوی کر دی ہے، لیکن اس کے درمیان اس نے درخواست گزار گنارتنا سداورت کو ضرورت پڑنے پر عدالت میں آنے کی اجازت دے دی ہے۔

