بہار ترقی کی راہ پر بدستور چلتا رہے گا

تاثیر،۲۸ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

جنتا دل یونائیٹڈ کے سربراہ اور سینئر سماجوادی لیڈر نتیش کمار نے بی جے پی کی حمایت سے بحیثیت وزیر اعلیٰ ایک بار پھر بہار کی کمان سنبھال لی ہے۔انھوں نے کل بروز اتوار نویں بار بہار کے وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا۔موصوف 28 سالوں میں تیسری بار بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں۔  اتوار کی صبح ہی انہوں نے گورنر راجندر آرلیکر کو اپنا استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس کے بعد شام 5 بجے نئے سرے سے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔ اس حلف برداری کے ساتھ پچھلے کئی دنوں سے بہار میں سیاسی ہلچل کی قیاس آرائیاں ایک بار پھر درست ثابت ہوئیں۔ یعنی نتیش کمار نے اتوار کی صبح وہی کیا ،جس کی پیشین گوئی پچھلے کچھ دنوں سے کی جا رہی تھی۔۔  انہوں نے گورنر کو بتایا کہ انہوں نے گرینڈ الائنس سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔  اس کے بعد شام تک انہوں نے بی جے پی کی حمایت سے نویں بار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف بھی لیا۔
حلف لینے کے بعد نتیش کمار نے میڈیا کے سامنے اپنی باتیں رکھی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ پارٹی رہنماؤں کی رائے کی بنیاد پر  ہی انہوں نے آر جے ڈی کے ساتھ بنائے گئے حکمران اتحاد سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے قبل جے ڈی یو کے سینئر لیڈر کے سی تیاگی نےاپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی قیادت پر جاری تنازعہ اور ناراضگی کی طرف اشارہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ’’دراصل، کانگریس کا ایک حصہ اپوزیشن اتحاد کی قیادت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے‘‘۔بہار میں عظیم اتحاد سے کنارہ کشی اور بی جے پی کے ساتھ ایک بار پھر ریاست میں حکومت سازی کا فیصلہ اس صورت میں لیا گیا ہے حکومت پر کسی طرح کی کوئی آنچ نہیں آنے پائے۔ ظاہر ہے بہار اسمبلی میں بی جے پی کے 78 ایم ایل ایز ہیں، جے ڈی یو کے 45 اور  ہندوستانی عوام مورچہ 4 ایم ایل ایز ہیں۔  243 رکنی اسمبلی میں تینوں جماعتوں کی یہ تعداد مل کر 127 ہے، جو کہ 122 کے جادوئی  اعداد سے پانچ زیادہ ہیں۔
  قابل ذکر ہے ماضی میں جب نتیش کمار نے آر جے ڈی سے تعلقات توڑ لئے تھے، اس وقت باہمی دشمنی اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔ تقریباََ اسی طرح کے حالات اس بار بھی پیدا ہو گئے تھے۔چنانچہ انھوں نے کل آٹھویں بار وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑ کر اپنے ماضی کی روایت کو دہراتے ہوئے نویں بار وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا ہے۔واضح ہو کہ نتیش کمار پہلی بار 3 مارچ 2000 کو وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ تاہم اکثریت حاصل نہ کر پانے کی وجہ سے انہیں 10 مارچ 2000 کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔  بہار میں 2005 میں ہوئے انتخابات میں نتیش کمار بی جے پی کی حمایت سے دوسری بار وزیر اعلیٰ بنے تھے۔ 2010 میں ہوئے اسمبلی انتخابات کے بعد، نتیش  کمارایک بار پھر سی ایم بنے۔اس کے بعد ہوئے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے خلاف پارٹی کی خراب کارکردگی کی وجہ سے، انہوں نے سی ایم کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ اس دوران انہوں نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ بزرگ سیاسی رہنما جیتن رام مانجھی کو سونپا۔ تاہم جب 2015 میں پارٹی میں اندرونی کشمکش کا سلسلہ شروع ہو ا تو نتیش کمار نے جیتن رام مانجھی کو برطرف کر کے ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بہار کی کمان سنبھال لی۔ 2015 کے اسمبلی انتخابات میںاین ڈی اے کے خلاف عظیم اتحاد (جے ڈی یو، آر جے ڈی، کانگریس اور بائیں بازو کے اتحاد) کی جیت کے بعد نتیش کمار ایک بار پھر بہار کے وزیر اعلیٰ بنے۔ یہ پانچویں بار تھا جب نتیش نے وزیر اعلی کے طور پر حلف لیا۔ ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو کے خلاف کرپشن کے الزامات کے بعد نتیش کمار نے عظیم اتحاد سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔چنانچہ انھوں نے جولائی 2017 میںعہدے سے استعفیٰ دے دیا اور ایک بار پھر وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیا۔ این ڈی اے اتحاد نے 2020 کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ تاہم جے ڈی یو کی سیٹیں بی جے پی کے مقابلے میں کافی کم ہوگئیں۔ تاہم سیاسی تانے بانے نتیش کمار کے حق میں رہے۔لہٰذا، نتیش کمار ہی وزیر اعلیٰ کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔اس طرح وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور پھر اسی عہدے کا حلف لینے کا رکارڈ بناتے ہوئے کل انھوں نے 9 ویں بار بہار کے وزیر اعلیٰ کی ذمہ داریاں آئینی بند و بست کے تناظر میں سنبھالنے کا حلف لیا ہے۔
اس میں کوئی شبہہ نہیں ہے کہ نتیش کمار کے عظیم اتحاد کو خیر آباد کہنے اور بی جے پی کی حمایت سے بہار میں نئی حکومت بنانے کے ساتھ ہی اپوزیشن اتحاد ’’انڈیا‘‘ کی کمزوری جگ ظاہر ہو گئی ہے۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ’’ عظیم اتحاد‘‘ اور ’’انڈیا‘‘ سے خود کو الگ کرنے سے پہلے نتیش کمار دبے لفظوں میں ہی سہی بار باراپنے موقف کا اظہار کرتے رہے ہیں۔نتیش کمار نے ہی بکھرے ہوئے اپوزیشن لیڈر کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی انتھک کوششیں کی تھیں، لیکن جب لگا کہ سب کچھ ٹھیک ڈھنگ سے آگے بڑھ رہا ہے تو اوچھی سیاست شروع ہو گئی۔
گزشتہ سال کےدسمبر میں ہونے والی اتحاد کی میٹنگ میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کا نام اتحاد کی قیادت کے لیے پیش کر دیا گیا۔  جبکہ اس سے قبل ممبئی میں ہوئی میٹنگ میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا تھا کہ کسی کا چہرہ سامنے کیے بغیر اتحاد قائم رہے گا۔ ممتا بنرجی، جو پہلی شام کیجریوال کی رہائش گاہ پر گئی تھیں، نے کہا تھا کہ میٹنگ میں کوئی نام تجویز نہیں کیا جائے گا۔یہ کون نہیں جانتا ہے کہ تمام غیر کانگریس پارٹیوں نے کانگریس سے لڑ کر سیاست میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ نگریس پارٹی اپنی بقا کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ پچھلے دو عام انتخابات میں ان کے پاس اپوزیشن کے لائق لیڈر بھی نہیں تھے۔ شاید اس کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ کانگریس علاقائی پارٹیوں اور ان کے رہنماؤں کو خاطر خواہ ترجیح دینا نہیں جانتی ہے۔
بہر حال بہار میں نتیش کمار کی قیادت میںایک بار پھر نئی حکومت بن گئی ہے۔ بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر سمراٹ چودھری اور   ڈپٹی لیڈر وجے سنہا کو ڈپٹی کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔دریں اثناء تمام تر شکوے گلے کے درمیان نتیش کمار کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرنا چاہئے اور امید کی جانی چاہئے کہ بہار ترقی کی راہ پر بدستور چلتا رہے گا۔
***************