تاثیر،۲۹ جنوری۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
واشنگٹن،28جنوری:وہائٹ ہاؤس نیکہا ہے کہ امریکا غزہ میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ایک اور معاہدے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہیتاہم اس حوالے سے تا حال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں کو بتایا، ’’ہمیں کسی پیش رفت کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی بریٹ میک گرک کی خطے کے دورے کے بعد واشنگٹن کے بعد مذاکرات میں پیش رفت ہوگی۔ کربی نے کہا کہ مک گرک قیدیوں کے بارے میں بات چیت کرنے کے بعد واپس آئے ہیں۔خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر “آنے والے دنوں میں پیرس میں” مصر، اسرائیل اور قطر کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ غزہ کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے۔ذرائع نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن عن قریب ولیمز برنز کو یورپ بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے بدلے دو ماہ کی جنگ بندی کیمعاہدے پر بات چیت دو ماہ کے بدلے غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کریں۔اسی تناظر میں وائٹ ہاؤس نیکہا کہ بائیڈن نے جمعہ کو مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے بات کی۔ بائیڈن نے قطر کے امیر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی بات چیت کی۔ اس بات چیت میں غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کی گئی۔

