مراٹھا ریزرویشن تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی، منوج جرانگے پاٹل کا 10 فروری سے ایک بار پھر بھوک ہڑتال کا اعلان

تاثیر،۶فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

ممبئی،6فروری :مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن کے لیے گزشتہ کئی ماہ تک منوج جرانگے کی قیادت میں چلنے والی تحریک کے ایک بار پھر شروع ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے، کیونکہ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کے لیے منوج جرانگے پاٹل نے 10 فرروری سے ایک بار پھر غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق منوج جرانگے پاٹل نے اپنے آبائی گائوں آنتروالی سراٹی میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’’جب تک حکومت کی جانب سے جاری کیا گیا ا?رڈیننس قانون نہیں بن جاتا اور اس قانون پر عمل درا?مد شروع نہیں ہو جاتا اس وقت میں بھوک ہڑتال کرونگا۔‘‘ منوج جرانگے نے کہا کہ ’’حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے ا?رڈیننس سے مطمئن ہو کر میں خاموش نہیں بیٹھا ہوں بلکہ حکومت کے ہر اقدام پر میری نظر ہے۔ کچھ لوگ ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ ہم نے اتنا بڑا احتجاج کیا، ممبئی کے قریب واشی تک گئے اور ہمیں کیا ملا؟ میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ حکومت کی جانب سے ا?رڈیننس کا جاری ہونا ایک بڑی کامیابی ہے جس کے تحت 39 لاکھ مراٹھوں کو کنبی ذات کا سرٹیفکٹ دیا جائے گا۔‘‘واضح رہے کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں سوال کیا تھا کہ مراٹھا ریزرویشن کے لیے تحریک چلانے والے ا?خر کس بات کا جشن منارہے ہیں؟ منوج جرانگے پاٹل نے اسی کا جواب دینے کے لیے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ منوج جرانگے نے کہا کہ ’’ جب ہم ممبئی کی جانب کوچ کررہے تھے تو ہم نے اعلان کیا تھا کہ ہم ریزرویشن لے کر ہی ا?ئیں گے اور ہم ریزرویشن لے کر ہی ا?ئے۔ ا?رڈیننس کا جاری ہونا اور اس کا قانون کا شکل اختیار کرنا مرحلہ وار طور پر ہوتا ہے، کیا مجھ پر تنقید کرنے والے یہ بات نہیں جانتے؟‘‘منوج جرانگے پاٹل نے کہا کہ ’’ مجھے چہار دیواری کے اندر اگر کچھ کرنا ہوتا تو میں ریزرویشن تحریک چھوڑ کر کب کا پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا ہوتا، لیکن میں نے مراٹھا ریزرویشن کے لیے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی بھی میں خاموش نہیں بیٹھا ہوں بلکہ مہاراشٹر کے دورے پر نکل رہا ہوں۔‘‘ جرانگے پاٹل نے کہا کہ ’’حکومت سے ہمارا مطالبہ ا?رڈیننس جاری کرنے کا تھا جو وزیر اعلیٰ نے جاری کردیا۔ اب ہمارا مطالبہ ہے کہ 27 جنوری کو جو مسودہ ہمیں دیا گیا ہے اس پر وہ اپنے وعدے کے مطابق عمل کریں اور مراٹھوں کو ریزرویشن دینی شروعات کریں۔‘‘