تاثیر،۶فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ہردہ، 6 فروری : مدھیہ پردیش کے ہردا ضلع میں منگل کو ایک غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری میں دھماکے کے بعد آگ لگ گئی۔ آتشبازی کے استعمال کے لیے فیکٹری میں رکھے بارود کے رابطے میں آنے کے بعد ا?گ نے کچھ ہی دیر میں خوفناک شکل اختیار کر لی۔ اس سے پورے علاقے میں دہشت پھیل گئی۔ اس حادثے میں اب تک 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں ضلع اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی ہے۔ انہوں نے حادثے کی جانچ کا حکم دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ جانچ کے لیے چھ رکنی کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
معلومات کے مطابق شہر کے مگردھا روڈ پر واقع گاوں بیرا گڑھ میں واقع ایک غیر قانونی پٹاخہ فیکٹری میں منگل کو زبردست دھماکے کے بعد خوفناک آگ لگ گئی۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ ا?س پاس کے 50 سے زائد گھروں کو اپنی زد میں لے لیا۔ جس کی وجہ سے علاقے میں افراتفری کا ماحول ہوگیا اور لوگ ادھر ادھر بھاگتے نظر آئے۔ فیکٹری سے اٹھتے آگ کے شعلے اور دھواں کئی کلومیٹر دور سے دیکھا جا سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دھماکے کے وقت فیکٹری کے احاطے میں 250 سے زائد مزدور کام کر رہے تھے۔ حادثے میں 11 افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ جگہ جگہ لاشیں پڑی نظر ا?رہی ہیں۔فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر راحت اور بچاو کا کام شروع کیا۔ زخمیوں کو ایمبولینس کے ذریعے اسپتال بھیجا جا رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ فیکٹری کے احاطے میں 100 سے زائد افراد اب بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ فیکٹری میں اب بھی دھماکوں کی آوازیں وقفے وقفے سے سنی جا رہی ہیں۔ حمیدیہ میں ڈاکٹروں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔ زخمیوں کو بھوپال اور اندور بھیجا جائے گا۔ ہردا سے بھوپال تک گرین کوریڈور بنایا جائے گا۔
ہردا میں پٹاخہ فیکٹری میں پیش آئے حادثے کے حوالے سے بیتول ضلع سے چار ایمبولینس اور ڈاکٹروں کی ایک ٹیم روانہ کی گئی ہے۔ بیتول کلکٹر کی ہدایت پر سی ایم ایچ او روی کانت اوئیکے نے چار ڈاکٹروں کی ٹیم دوائیوں کے ساتھ روانہ کی ہے۔ سی ایم ایچ او نے کہا کہ چار 108 ایمبولینسیں بھی بھیجی گئی ہیں اور ہردا ضلع کے ہیلتھ حکام سے مسلسل رابطہ کیا جا رہا ہے۔
ادھر نرمداپورم کلکٹر سونیا مینا کی ہدایت پر عملہ تیار ہے۔ نرمداپورم کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے چارج سنبھال لیا۔ محکمہ صحت، پولیس اور انتظامیہ کی ٹیم امدادی کام میں مصروف ہے۔ نرمداپورم کلکٹر کی ہدایت پر دو ایمبولینس اور ایک فائر انجن کو ہردا بھیجا گیا ہے۔ ضلع کی میڈیکل ٹیم ہردا پہنچ گئی ہے اور وہاں راحت اور علاج کا کام جاری ہے۔
مگردھا روڈ سمیت پٹاخہ فیکٹری کے تقریباً ایک کلومیٹر کے دائرے میں ٹریفک کو روک دیا گیا ہے۔ نرمدا پورم کھنڈوا اسٹیٹ ہائی وے پر رکاوٹیں لگا کر گاڑیوں کو بھی نکالا جا رہا ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد سابق وزیر کمل پٹیل زخمیوں کی عیادت کرنے اسپتال پہنچے اور اہل خانہ کو مدد کا یقین دلایا۔ بہت سے لوگ خود زخمیوں کی مدد کے لیے خون کا عطیہ دینے ضلع اسپتال پہنچ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے منگل کی دوپہر ہردا میں ہولناک حادثے کے حوالے سے ہنگامی میٹنگ بلائی۔ انہوں نے وزراءپردیومن تومر اور ادے پرتاپ سنگھ، اے سی ایس اجیت کیسری، ڈی جی ہوم گارڈ اروند کمار کو فوری طور پر ہردا جانے کی ہدایت دی۔ اس کے علاوہ بھوپال، اندور میں میڈیکل کالج اور ایمس بھوپال میں برن یونٹ کو ضروری تیاری کرنے کو کہا گیا ہے۔ اندور اور بھوپال سے فائر بریگیڈ کو بھی ہردا بھیجا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امدادی کاموں کے لیے اعلیٰ حکام کو ہدایات جاری کی گئیں۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ زخمیوں کا بہترین علاج ہماری اولین ترجیح ہے۔ جاں بحق اور زخمیوں کی مالی امداد کی جائے گی۔ بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں کے لواحقین کو 4-4 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے کی امداد دی جائے گی۔

