چمپارن کی دھرتی شعر و ادب کے لئے زرخیز رہی ہے : ڈاکٹر ستیش کمار رائے

تاثیر،۱۰فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

بتیا 10 فروری (محمد قمرالزماں)”چمپارن کی دھرتی زمانہ قدیم سے ہی شعر و ادب کے لئے زرخیز رہی ہے”  یہ باتیں بابا بھیم راؤ امبیڈکر، بہار یونیورسیٹی کی آرٹس فیکلٹی کے ڈین اور سابق صدر شعبہ ہندی ڈاکٹر ستیش کمار رائے نے جمعہ کے روز منعقد ایک ادبی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہیں .موصوف مہارانی جانکی کنور کالج کے ہندی شعبہ (پی جی ڈپارٹمنٹ) کے زیر اہتمام منعقد سیمینار “ہندی ادب کو چمپارن کی دین” کے موقع پر ہندی نظموں کا مجموعہ “یہ جنگل کی آگ” کے اجرا کے بعد بحیثیت مہمان خصو صی اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اس مجموعے میں شامل تمام نظمیں ایک حساس دل رکھنے والے شاعر کے جذبوں کا نچوڑ ہیں۔
کالج کے سیمینار ہال میں منعقد تقریب کی صدارت کالج کے پرنسپل اور “یہ جنگل کی آگ” کے شاعر ڈاکٹر سرندرکیسری نے کی ۔ نظامت ڈاکٹر راجیش کمارنے کی۔تقریب کے آغاز میں کالج کے ہندی شعبہ کی پروفیسر ڈاکٹر آنشیتا شُکل نے چمپارن کی ادبی تاریخ پر بہت تفصیل سے اپنی باتیں رکھیں۔ تقریب کے دوسرے سیشن میں شعری محفل آراستہ ہوئی، جس میں شہر کے ممتاز شاعروں کے علاوہ کالج کے طلباء وطالبات نے بھی حصہ لیا. جن شعرائے کرام کو خوب داد و تحسین ملی ، ان میں ڈاکٹر گورکھ پرساد مستانا ،محمد قمرالزماں قمر ،ڈاکٹر ظفر امام ،انیل انل ،ارون گوپال ،سریش گپت ،ڈاکٹر و نئے کمار سنگھ،ڈاکٹر سنیل کمار ،ڈاکٹر سرندر کمار رائے،ڈاکٹر پریم کمار،ڈاکٹر اویناش کمار ،اویناش کمار پانڈے، گلریز شہزاد ،ڈاکٹر چندر شیکھر کمار،منا کمار ، امریتا کماری ،ساکچھی، پریادرشنی کے نام اہم ہیں. ڈاکٹر راجیش کمار کے اظہار تشکر کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
******