تاثیر،۱۱فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ، 11 فروری:فلور ٹیسٹ کو لے کر بہار میں مسلسل سیاست چل رہی ہے۔ آر جے ڈی اور بائیں بازو کے ارکان اسمبلی تیجسوی کی رہائش گاہ کے اندر جمع ہیں۔ اتوار کے روز ا?ر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا تیجسوی کی رہائش گاہ سے باہر آئے اور این ڈی اے اتحاد کے لوگوں کی طرف سے اسمبلی اسپیکر کو عہدے سے ہٹانے کی تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کا حکم میڈیا کو بھی دکھایا۔
رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ جس طرح اروناچل پردیش اور مہاراشٹر میں اسمبلی اسپیکر کو ہٹایا گیا ہے۔ اس معاملے پر عدالت نے جس طرح کا فیصلہ دیا ہے اس پر کہیں بہار میں بھی عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر بہار میں 122 ایم ایل ایکی تعداد تحریک عدم اعتماد کے حق میں ہوتی ہے تو اسمبلی اسپیکر کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اس دوران جب میڈیا نے پوچھا کہ صرف راشٹریہ جنتا دل یا عظیم اتحاد کے لوگ ہی اپنے ایم ایل اے کو ساتھ رکھ رہے ہیں۔ کہیں ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ہم ماحول نہیں بناتے۔ اتحاد کے لیے تمام ایم ایل اے اور ہم ایک ساتھ بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام جانتے ہیں کہ کس کی نیت خراب ہے۔
این ڈی اے حکومت کا فلور ٹیسٹ 12 فروری کو بہار اسمبلی میں ہونے والاہے۔ فلور ٹیسٹ کو اسی اکثریت کی بنیاد پر پاس کرنا ہوگا جس کی بنیاد پر این ڈی اے نے حکومت بنائی تھی۔ اس کو لے کر بہار میں سیاست چل رہی ہے۔ ایم ایل اے کے ساتھ جوڑ توڑ کی سیاست پارٹی اور اپوزیشن کر رہی ہے۔ اسی دوران آر جے ڈی ایم پی کا بیان آیا کہ اسپیکر کو ہٹانے کے لیے 122 ایم ایل اے کی حمایت ضروری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آر جے ڈی این ڈی اے کے ایم ایل اے کو توڑنے والی ہے۔

