شمبھوبارڈرپرپولیس اوراحتجاجی کسان آمنے سامنے، ڈرون کیذریعے آنسوگیس کااستعمال

تاثیر،۱۳فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

چندی گڑھ،13 فروری :کسانوں کے دہلی مارچ کی وجہ سے ہریانہ کے شمبھو بارڈر پر پولیس اور احتجاجی کسانوں میں جھڑپ ہوگئی ہے۔ ہریانہ پولیس کی طرف سے آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ اس دوران وہاں پر افراتفری مچ گئی۔ دوپہر 12 بجے کے قریب کسان سرحد سے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اب پولیس نے مسلسل آنسو گیس کے گولے داغے ہیں۔ اب یہاں جنگ جیسی صورتحال ہے اور حالات قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں۔جانکاری کے مطابق جب کسان شمبھو بارڈر پر پہنچے اور موقع سے رکاوٹیں ہٹا دیں تو پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ پولس ڈرون کے ذریعے سرحد کے دوسری طرف نظر رکھے ہوئے تھی۔ اسی دوران تقریباً ساڑھے بارہ بجے ڈرون سے آنسو گیس کے گولے بھی چھوڑے گئے۔ ہریانہ پولیس نے شمبھو بارڈر پر کسانوں کے لیے ایک ہیلپ لائن نمبر بھی جاری کیا ہے۔ ہریانہ پولیس نے اعلان کیا اور کہا کہ جب تک کسان لیڈر نہیں آتے کسی کو بھی ا?گے جانے نہیں دیا جائے گا۔ اگر کوئی ایس پی یا ڈی سی سے بات کرنا چاہتا ہے تو وہاس نمبر ‘9729990500’ پر رابطہ کر سکتا ہے۔موقع پر پہنچنے والے احتجاجی نوجوان اور دیگر لوگوں نے منہ پر رومال باندھ رکھے ہیں اور یہ انتظامات مظاہرین کی جانب سے آنسو گیس کے اثرات سے بچنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پانی کے ٹینکر بھی موقع پر رکھے گئے ہیں، تاکہ آنسو گیس کے اثر کو کم کیا جا سکے۔ پولیس نے تقریباً 15۔20 منٹ تک آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور اس کی وجہ سے کسان موقع سے تقریباً 100 میٹر پیچھے ہٹ گئے۔ہریانہ پولیس کی طرف سے آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔تاہم آگے بڑھنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن جیسے ہی کوئی سرحد کی طرف بڑھتا ہے، پولیس گولی چلا دیتی ہے۔ جیسے ہی آنسو گیس کے گولے آس پاس گرتے ہیں، کسان ان پر مٹی بھی ڈال رہے ہیں، تاکہ ان کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ یہاں امبالہ رینج کے آئی جی سباش کابی راج کا کہنا ہے کہ اگر کسان ٹریکٹر لے کر آگے بڑھیں گے تو انہیں جانے نہیں دیا جائے گا۔ لیکن اگر وہ بس یا ٹرین سے جائیں تو اس کی اجازت دی جائیگی۔اس سے پہلے کسان امبالا کے شمبھو بارڈر پہنچ گئے تھے۔ ٹریکٹر ٹرالیوں کا قافلہ سرحد سے پہلے یہاں رک گیا تھا۔ اس کے علاوہ پولیس نے کئی کسانوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ اس وقت شمبھو بارڈر پر کافی افراتفری کا ماحول ہے۔۔ یہاں کسانوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔