تاثیر،۲۰فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
جنیوا،20فروری: عالمی ادارہ صحت نے منگل کو کہا کہ اس نے غزہ کے ناصر ہسپتال سے انخلاء کا دوسرا مشن مکمل کر لیا ہے جس میں لڑائی کے دوران بچوں سمیت کل 32 نازک مریضوں کو اس مقام سے منتقل کر دیا گیا ہے۔اقوامِ متحدہ کی ایجنسی نے بتایا کہ خان یونس میں واقع غزہ کے دوسرے بڑے ناصر ہسپتال نے گذشتہ ہفتے ایک ہفتے کے محاصرے اور چھاپے کے بعد کام کرنا چھوڑ دیا۔ڈبلیو ایچ او کے عملے نے کہا کہ ہسپتال کے ارد گرد کی تباہی “ناقابلِ بیان” تھی اور اس نے اندازے کے مطابق 130 بیمار اور زخمی مریضوں اور 15 طبی ماہرین کے لیے تشویش کا اظہار کیا جو اس جگہ کے اندر موجود ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر کہا، “ڈبلیو ایچ او ہسپتال میں رہ جانے والے مریضوں اور صحت کے کارکنان کی حفاظت اور صحت کے لیے خوفزدہ ہے اور خبردار کرتا ہے کہ بیماروں اور زخمیوں کی زندگی بچانے والی نگہداشت میں مزید رکاوٹیں زیادہ اموات کا باعث بنیں گی۔”ادارے نے کہا، باقی مریضوں کو منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس نے کہا کہ اس جگہ پر بجلی یا رواں پانی نہیں ہے اور طبی فضلے اور کوڑے کی وجہ سے یہاں “بیماریوں کی افزائش کا مقام بن رہا ہے”۔فلسطینی محکمہ صحت کے حکام نے کہا کہ صورتِ حال “تباہ کن سطح” پر پہنچ چکی تھی اور اسرائیلی افواج نے مؤثر طریقے سے اس جگہ کو “فوجی بیرکوں” میں تبدیل کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا، وہاں کے پسماندگان کی زندگیوں کو براہِ راست خطرہ ہے۔اسرائیل کہتا ہے کہ 2007 سے غزہ کو چلانے والا مزاحمت کار گروپ حماس ہسپتالوں کو کور کے لیے استعمال کرتا ہے۔ حماس اس کی تردید کرتی اور کہتی ہے کہ اسرائیل کے الزامات صحت کی نگہداشت کے نظام کو تباہ کرنے کا بہانہ ہیں۔

