تاثیر،۲۲فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
ملک میں آئندہ لوک سبھا انتخابات کے مد نظر اتر پردیش میں کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے درمیان سیٹوں کا سمجھوتا ہو گیا۔ سمجھوتے کے مطابق ریاست کی کل 80 لوک سبھا سیٹوں میں سے 17 پر کانگریس چناؤ لڑے گی۔ ایسے میں اب مایاوتی کی پوزیشن ’’گھر کی نا گھاٹ کی ‘‘ والی ہو کر رہ گئی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے درمیان اتحاد کی وجہ سے بی ایس پی کو این ڈی اے سے زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔یعنی آنے والے انتخابات میں بی ایس پی کی کارکردگی 2019 کے انتخابات سے بھی بدتر ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اب ریاست میں سہ رخی مقابلہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پچھلے انتخابات میں بی ایس پی نے ایس پی اور آر ایل ڈی کے ساتھ مل کر انتخابات لڑے تھے اور 10 سیٹیں حاصل کی تھیں، لیکن اس بار ایسا ہونا مشکل لگتا ہے، کیونکہ بی ایس پی 2024 کے انتخابات میں تنہا رہ گئی ہے۔ اِدھرلوک سبھا انتخابات 2024 میں بی جے پی کو روکنے کے لئے کانگریس مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ لوک سبھا انتخابات کے نقطہ نظر سے اتر پردیش ایک بڑی ریاست ہے ۔ چنانچہ کانگریس چاہتی تھی کہ ایس پی اورآر ایل ڈی کے ساتھ ساتھ بی ایس پی بھی کانگریس کے ساتھ اتحاد کر لے، لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ بی ایس پی کو تو چھوڑئے، آر ایل ڈی نے بھی کانگریس کے ساتھ اتحاد نہیں کیا۔ اتحاد کی قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے مایاوتی نے کئی بار کہا ہے کہ کانگریس اور ایس پی کے ووٹ ان کی پارٹی کو منتقل نہیں ہوتے ہیں۔ ایسے میں ’’اس بار 400 پار‘‘ کے نعرے کے ساتھ چناوی میدان میں اترنے والی بی جے پی کویوپی میں زبردست کو فائدہ ہو سکتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی نے مغربی اتر پردیش میں آر ایل ڈی کے ساتھ اتحاد کیا ہے، جب کہ مشرقی اتر پردیش میں اس نے اوم پرکاش راج بھر اور انوپ پریہ پٹیل کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ایسے میں یہ واضح ہو گیا ہے کہ اس بار اتر پردیش میں سہ رخی مقابلہ ہونے والا ہے۔ دلتوں، مسلمانوں اور او بی سی کی آبادی والی سیٹوں پر بھی بی جے پی کو فائدہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ان سیٹوں پر ایس پی؍ کانگریس اور بی ایس پی کے درمیان ووٹ تقسیم طے ہے۔ مذکورہ تناظر2019 کے انتخابات کی بات کریں تو جب بی ایس پی،ایس پی اور آر ایل ڈی نے مل کر الیکشن لڑا تھا، تو اتر پردیش میں این ڈی اے کو صرف 64 سیٹیں مل سکی تھیں۔ وہیں بی ایس پی کو 10 اور ایس پی کو 5 سیٹیں ملی تھیں۔ کانگریس صرف رائے بریلی سیٹ سے الیکشن جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی، جہاں سے سونیا گاندھی نے الیکشن لڑا تھا۔ راہل گاندھی بھی امیٹھی سے الیکشن ہار گئے۔وہاں سے اسمرتی ایرانی کو کامیابی ملی تھی۔سال 2014 کی بات کریں تو ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان اتحاد نہ ہونے کی وجہ سے این ڈی اے کو ریاست میں 73 سیٹیں ملی تھیں۔ اس بار قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ کانگریس اورایس پی اتحاد سے دونوں پارٹیوں کو کچھ فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن بی ایس پی کے لیے راستہ مشکل ہو گیا ہے۔ کیونکہ مایاوتی کے لئے صرف دلت ووٹوں کے بھروسے سیٹ جیتنا مشکل ہوگا۔ اِدھر بی جے پی کئی طرح کی اسکیمیں چلا رہی ہے۔چنانچہ بی جے پی کو فائدہ ہونا تو یقینی ہے ہی۔اِدھر اتر پردیش میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے درمیان سیٹوں کے معاہدے کو 36 گھنٹے بھی نہیں گزرے ہیں کہ کانگریس پارٹی میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ وارانسی سے کانگریس کے سابق ایم پی راجیش مشرا کا الزام ہے کہ پارٹی میں، مرکزی قیادت کے وفاداری اور لگن کے ساتھ کام کرنے والوں پر خوشامدانہ رویہ اپنانے والے بھاری پڑ رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس لئے پیدا ہو گئی ، کیوں کہ راجیش مشرا وارنسی سے ہی الیکشن لڑنا چاہتے تھے، لیکن معاہدے میں یہ سیٹ سماج وادی پارٹی کے پاس چلی گئی ہے۔اس وجہ سے وہ اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے کے خلاف کھل کر میدان میں آگئے ہیں۔دریں اثنا، بات یہ بھی چل رہی ہے کہ راجیش مشرا انتخابات کے درمیان ہی کانگریس سے کنارہ کشی اختیار کر کے ایس پی کی سائیکل پر سوار ہو کر بھدروہی لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ یوپی کی 80 لوک سبھا سیٹوں میں سے کانگریس جو 17 سیٹیں ملی ہیں، ان میں بھدوہی سیٹ شامل نہیں ہے، جہاں سے راجیش مشرا الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ راجیش مشرا کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ ان (راجیش مشر) کی سیاست کو سائیڈ لائن کرنے کے لئے ہی پارٹی کے کچھ سینئر لیڈروں نے یہ سیٹ ایس پی کو دے دی ہے۔ اس سے راجیش مشرا ناراض ہو نا فطری ہے۔حالانکہ 2004 کے لوک سبھا انتخابات میں ڈاکٹر راجیش کمار مشرا وارانسی سے کانگریس کے ٹکٹ پر جیتے تھے، لیکن 2009 میں وہ اسی سیٹ سے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر چوتھے نمبر پر چلے گئے۔ اِدھرکانگریس کے ایک سینئر لیڈر کا کہنا ہے کہ راجیش مشرا کی ناراضگی کی وجہ کچھ اور ہے۔ دراصل، وارانسی میں انھیں اپنے لئے کوئی امکان نہیں دیکھا ، اسی لئے وہ بھدوہی سے الیکشن لڑنا چاہتے تھے۔ الزام ہے کہ راجیش مشرا پہلے سے ہی سماج وادی پارٹی کے رابطے میں ہیں اور کانگریس سے ٹکٹ نہیں ملنے کی صورت میں وہ ایس پی کے ٹکٹ پربھدوہی سے الیکشن لڑ سکتے ہیں۔بہر حال معاملہ صرف بھدوہی میں نہیں پھنسا ہے بلکہ کانگریس کے کھاتے میں گئی دوسری کئی سیٹوں پر پارٹی کے رہنماؤں کے درمیان بھی رسہ کشی جاری ہے، جو کانگریس اعلیٰ کمان کے لئے پریشانی کا سبب ہے۔پریشانی صرف یہ نہیں ہے کہ کانگریس کا کون سا امیدوار چناؤ جیتے گا اور کون ہارے گا بلکہ اصل پریشانی کی بات یہ ہے کہ ’’ایک انار سو بیمار‘‘ جیسی صورتحال پر کیسے قابو پایا جائے۔پارٹی اعلیٰ کمان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ یوپی میں کانگریس کو اگر سب سے زیادہ خطرہ ہے تو ناراض کانگریسیوں سے ہی ہے۔راجیش مشرا کے قریبی لوگوں کا خیال ہے کہ راجیش مشرا کی سیاست کو سائیڈ لائن کرنے کے لیے پارٹی کے کچھ سینئر لیڈروں نے یہ سیٹ ایس پی کو دے دی، اس سے راجیش مشرا ناراض ہو گئے ہیں۔ظاہر ہے یوپی کے حالات کانگریس کے لئے قطعی موافق نہیں ہیں۔بی جے پی ہر اعتبار سے وہاں فائدے میں رہے گی۔
******

