تاثیر،۲۴فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
لندن ،24فروری :برطانیہ کے پارلیمنٹ ہائوس میں جموں وکشمیر کا ہندستان کے ساتھ الحاق کو سنکلپ دیوس کے طور پر منا یا گیا ۔ جموں وکشمیر اسٹیڈیز سینٹر برطانیہ نے اس سلسلے میں برطانیہ کے پارلیمنٹ ہائوس میں ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں کئی ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ مختلف سیاسی اور سماجی تنظیمیوں کے رہنمائوں نے بھی شرکت کی ۔ ہندستان کے پارلیمنٹ نے 22فروری 1994کو ایک قرارداد پاس کیا جس میں یہ کہا گیا کہ سارا جموں وکشمیر ہندستان کا ایک اٹوٹ انگ ہے۔ اس قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے علاوہ مقبوضہ کشمیر بھی ہندستان کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس موقع پر ممبران پارلیمنٹ باب بلیک مین ،محترمہ تھییرسا گلیٹ ،مسٹر ایلٹ کولمبرگ اور ویندرا شرما بھی شامل ہیں۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے پروفیسر سجاد راجہ نے بھی خطاب کیا ۔ اور کشمیر کی ایک سرگرم رکن ینا میر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ مقررین نے جموں وکشمیر کے گنگا جمنی تہذیب کا ذکر کیا ۔ سجادراجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور مختلف ممالک سے اپیل کی کہ وہ ان مسائل کو حکومت پاکستان کے ساتھ اجاگر کرے۔ اس موقع پر ینا میر کو کشمیر کے تہذیب وتمدن کوابھارنے کے لئے انعام سے بھی نوازہ گیا ۔ انہو ںنے کہا کہ 370ہٹانے کے بعد سیکورٹی حالات میں نما یاں تبدیلی آئی ہے۔ مرکزی حکومت نے فراخ دلی کی مظاہرہ کرتے ہوئے کئی ترقیاتی اسکمیں شروع کئیں ۔ جب کہ نواجوانوں کے لئے کئی بہبود اسکیمیں شروع کی ۔ اس موقع پر اسٹیڈیز سینٹر کے ونود ٹکونے ممبرپارلیمنٹ محترمہ تھیرس ویلیٹ کو کشمیر کے الحاق پر ایک کتاب بھی پیش کی ۔ اس کے علاوہ مختلف مقررین نے کشمیر کے موجودہ صورتحال کو تسلی بخش قراردیا اور کہا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

