آل انڈیا ملی کونسل کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد

تاثیر،۲۵فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

رانچی/ آج 25 فروری 2024 اتوار کو انجمن اسلامیہ ہال کے استڈی سینٹر میں آل انڈیا ملی کونسل کی ایما پر مرکزی اساسی ممبر ڈاکٹر وکیل احمد رضوی کے ذریعہ ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کا عنوان تھا ” سی اے اے مضمرات ,اندیشے اور خطرات “. کانفرنس کی صدارت جھارکھنڈ کے مشہور معروف سرجن اور آل انڈیا ملی کونسل کے رکن عاملہ و ملی کونسل جھارکھنڈ کے سابق صدر ڈاکٹر مجید عالم نے کی جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر وکیل احمد رضوی نے بخوبی انجام دیا۔ انہوں نے ابتدائی کلمات کے طور پر اس سی مینار کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ آل انڈیا ملی کونسل کے مرکزی سیکرٹری ڈاکٹر منظور عالم کی ہدایت پر یہ ملی کونسل کے ذریعہ جاری کئے گئے منشور مطالبات پر روشنی ڈالی اور سی اے اے،این، آر، سی کے پیش نظر آنے والے خطرات سے عام لوگوں کو آگاہ کرنے اور سیاسی جماعتوں کو اپنے انتخابی اعلانئے میں مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے مفاد میں ان کے مسائل کے حل کےلئے کو نسل کے ذریعہ تیار کردہ منشور کو شامل کرنے کی غرض سے منعقد گئی ہے۔ اس سے قبل 23 فروری کو ایک پریس کانفرنس بھی بلائی گئی تھی جس میں آیندہ انتخابات کے مدنظر ہندوستانی مسلمانوں، پسماندہ اقوام، دلت وغیرہ کی فلاح و بہبود کی خاطر ایک چارٹر آف ڈیمانڈز (مطالبات) پر مبنی ایک منشور تیار کر پریس کانفرنس میں شریک مختلف صحافیوں کو اس کی ایک کاپی دستیاب کرائی گئی جسے ایک وفد کی شکل میں سبھی سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں کو سونپا جانا ہے۔تاکہ یہ پارٹیاں اپنے انتخابی منشور شامل کر سکیں۔ آج کی منعقدہ کانفرنس کی غایت بیان کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ جیسا کہ معلوم ہے سی اے اے قانون پاس کر دیا گیا ہے اور اب اسے انتخابات سے پہلے نافذ کرنے کی بات مرکزی وزیر داخلہ کر رہے ہیں۔ اس سے متعلق این آر سی کا کام بھی شروع ہوگا جس کی بعد اس میں اسکروٹنی کی جائے گی جس کے مضر اثرات سماج کے کمزور طبقوں پر اثر انداز ہونگے جس کی ذد میں سب سے زیادہ مسلمان آئیں گے۔ لہذا اس چیلینج سے نمٹنے میں درپیش مسائل پر گفتگو کرنا اور اس کے سدباب کی راہ تلاش کرنا نیز تحفظاتی اقدام اٹھانے کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اسی کے مد نظر سنیر ایڈوکیٹ جھارکھنڈ ہائی کورٹ جناب اے۔ علام صاحب کو دعوت دی گئی کہ اس عنوان کے تحت کلیدی خطبہ پیش کریں۔ جناب اے علام نے تفصیل میں اس قانون پر روشنی ڈالی اور ماضی کے قانون سے موازنہ کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کے مدنظر اسے تشویشناک بتایا۔ سبھی شہریوں سے یہ درخواست کی گئی کہ وہ اپنے اپنے ضروری کاغذات تیار رکھیں اور اگر کسی طرح کی اس میں غلطی نظر آتی ہو تو اس کی پہلی فرصت میں تصحیح کرا لیں۔ پہچان کے طور پر یا شناختی کارڈ کے طور پر اگر پاسپورٹ ہے تو وہ سب سے اچھا ثبوت ہے۔ اس کے علاوہ ووٹرز آی کارڈ، آدھار کارڈ، زمین جایداد سے متعلق کاغذات کو دیکھ لیں اور کسی طرح کی اسپلنگ غلطی یا اور کوئی غلطی نظر آتی ہے اسے صحیح کرا لیں۔ اس کی گاوں گاؤں، شہر شہر، قریہ قریہ ہر جگہ تشہیر کریں اور ایک جانکار گروپ تشکیل دے کر اس کام کو ترجیح دیتے ہوئے مختلف علاقوں میں انجام دیں۔
کانفرنس میں موجود ڈاکٹر ہمایوں احمد، ہزاری باغ سے تشریف لائے ڈاکٹر ظفر اللہ صادق کے علاوہ سبحان اختر، نہال سریاوی، مولانا محمد کلام، فیصل علام ایڈوکیٹ ہائی کورٹ، سید عرش اعظم، گملا سے تشریف لائے شہزاد انور وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ صدارتی خطاب میں ڈاکٹر مجید عالم صاحب نے حالات کی نزاکت اور سنجیدگی کے مد نظر مقررین کے زریعے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا اور یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس مسئلہ کا مقابلہ اور حل کرنے کی ضرورت بتائی۔ اس کانفرنس میں مقررین کے علاوہ خصوصی طور پر عزیر حمزہ پوری،ماسٹر امان اللہ،ڈاکٹر غالب نشتر،مکمل حسین، اقبال احمد، انجنیئر شہباز شاہین، دانش ایاز، دلشاد نظمی، قدرت اللہ قدرت، محمد مسلم، محمد اقبال وغیرہم نے حصہ لیا۔آخر میں ڈاکٹر منظور احمد نے شکریہ کی تجویز پیش کرتے ہوئے آئے سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ صدر محترم کی اجازت سے نشست کے خاتمے کا اعلان کیا گیا۔