تاثیر،۲۶فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
غزہ،26فروری :شمالی غزہ میں غذائی قلت کی وجہ سے اموات ریکارڈ کیے جانے کے بعد اسرائیل شمالی حصے میں پہلی بار امداد لے جانے کی اجازت دینے کی تیاری کررہا ہے۔باخبر اسرائیلی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل پہلی بار انسانی امداد کو براہ راست شمالی غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے گا تاہم یہ امداد جنوبی غزہ میں نہیں دی جائے گی۔اسرائیلی براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے وضاحت کی کہ ابتدائی طبی امدادی قافلے آج پیر کی شام شمالی غزہ میں داخل ہوں گے۔طے شدہ منصوبے کے مطابق انسانی امداد سے لدے ٹرکوں کو اسرائیلی فوج کاریم شالوم یا العوجہ کراسنگ پر سکیورٹی چیک سے گزرنا پڑے گا، جس کے بعد وہ شمال میں انسانی ہمدردی کی راہداری کے علاقے میں غزہ میں داخل ہوں گے۔اس کے بعد امداد کو مقامی عہدیداروں کے ذریعہ الزیتون کے محلے میں نقل مکانی کے مراکز تک پہنچایا جائے گا تاہم اسرائیل نے ان مقامی حکام کی شناخت نہیں کی۔ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حکومت کی کارروائیوں کے کوآرڈینیٹر میجر جنرل غسان الیان نے شمالی غزہ کے مقامی حکام سے رابطہ کیا اور ان سے حماس کے متبادل کے طور پر علاقے میں امداد کی فراہمی کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے اپنے رضامندی کا اظہار کیا۔یہ قدم شمالی غزہ میں مشکل حالات اور خوراک، پانی اور ادویات کی یکساں شدید قلت کے پس منظر میں امریکی دباؤ کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ غزہ کے باشندوں کو امداد فراہم کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے UNRWA نے اس سے قبل غزہ کے تمام علاقوں بالخصوص شمال میں تباہ کن حالات سے خبردار کیا تھا۔اس نے متنبہ کیا تھا وہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک شمالی غزہ تک خوراک کی امداد نہیں پہنچا سکے گا۔

