تاثیر،۲۹فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ،27 فروری۔۔۔۔۔ادبی گہوارہ راجدھانی پٹنہ میں پی ایل ایف کے زیراہتمام عالمی یوم خواتین کے موقع پر عظیم الشان خواتین مشاعرہ اور کوی سمیلن کا انعقاد رویندر بھون پٹنہ میں 7مارچ 2024 کو ہو گا۔ اس کی تیاری شباب پر ہے۔ خواتین مشاعرہ اور کوی سمیلن میں گوالیار مدھیہ پردیش کی شاعرہ جیوتی آزاد کھتری شرکت کرینگی۔ اس سلسلے میں پی ایل ایف کے میڈیا نمائندہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ میری شاعری کا آغاز 2013 سے ہوا۔تب سے اب تک جاری و ساری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس درمیان کافی نشیب و فراز دیکھے۔ انہوں نے شاعری کی جانب انے کے حوالے سے کہا کہ میں بچپن سے ہی حساس انسان رہی ہوں۔ میرے اردگرد جو کچھ ہوا اسے لکھنے کی کوشش کی۔ مجھے بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔طرح طرح کی کہانیوں کی کتابیں پڑھنے میں دلچسپی رکھتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جگجیت سنگھ، مہندی حسن، غلام علی کی آوازوں میں شاعری مجھ تک (موسیقی کے ذریعے) پہنچتی تھی۔کالج کے زمانے میں جو کچھ بھی لکھتی تھی وہ صرف ایک ڈائری رہ گئی تھی لیکن 2013 سے میں کہوں گی کہ میں نے شاعری ٹھیک سے سیکھی اور شعر کہنا شروع کیا۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر آئی تو لوگوں نے میرے کلام کو بہت پسند کیا۔وہ شاعری جو صرف ڈائریوں تک محدود تھی اب منظر عام پر نمودار ہونے لگی۔
پٹنہ کے سفر کے تعلق سے شاعرہ جیوتی ازاد کھتری نے کہا کہ پٹنہ کا یہ میرا پہلا ادبی سفر ہے اور مجھے کافی مسرت ہو رہی ہے کہ اس ناجیز کو خواتین مشاعرہ میں جگہ ملی یہ بھی خوش نصیبی ہے کہ پی ایل ایف کے بانی و سیکرٹری خورشید احمد سے ہماری گفتگو ہوئی۔ خورشید احمد کا میں شکر گزار ہوں جنہوں نے اس ناچیز پربھی نظر کرم عنایت کی۔انہوں نے پٹنہ پی ایل ایف مشاعرہ میں شرکت کے حوالے سے کہا کہ میں پہلی بار پی ایل ایف کا مشاعرہ پڑھنے آرہی ہوں۔ انہوں نے شاعر یا شاعرہ کو اپنے استاد کی حیشیت سے کہا کہ غالب، ناصر کاظمی، پروین شاکر، احمد فراز، جمال احسانی، منٹو، عصمت چغتائی اور ان تمام لوگوں کو اپنا گرو مانتی ہوں جنہیں میں نے پڑھا اور جن سے سیکھا۔پٹنہ کی خواتین مشاعرہ میں شرکت کے بارے میں کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ میں خواتین مشاعرہ اور کوی سمیلن میں اپنا کلام سنانےجا رہی ہوں جس میں ہندوستان کے مشہور شاعرہ اپنی شاعری پیش کریں گی۔ قومی بین الاقوامی مشاعرہ میں شرکت کے بارے میں کہا کہ میں نے بہت سے قومی اور بین الاقوامی مشاعرے میں شامل ہوئی ہوں اور مشاعرہ پڑھی ہوں۔ انہوں نے اپنا کلام دبئی، بحرین، ابوظہبی، ہندوستان میں کئی اردو اکادمیاں، ریختہ اور دیگر معزز فورمز پر پڑھنے کا شرف حاصل کیا ہے۔شاعرہ جیوتی ازاد کھتری کے چند اشعار:-
تصورات کی جاگیر دیکھتے رہنا
ہمارے خواب کی تعبیر دیکھتے رہنا
میں سامنے ہوں ابھی گفتگو کرو مجھ سے
کہ بعد میں میری تصویر دیکھتے رہنا

