پولیس نے مجبوری میں شاہجہاں کو گرفتار کیا، ممتا کے دور حکومت میں بنگال محفوظ نہیں: بی جے پی

تاثیر،۲۹فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

کولکاتا، 29 فروری: سندیشکھالی کے ترنمول لیڈر شیخ شاہجہاں کی گرفتاری کو لے کر بی جے پی نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ مغربی بنگال بی جے پی کے شریک انچارج اور بی جے پی آئی ٹی سیل کے سربراہ امت مالویہ نے ممتا بنرجی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کوئی متبال نہیں ہونے کی وجہ سے انہیں شیخ شاہجہاں کو گرفتار کرنا پڑا ۔ اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شیخ شاہجہاں کی 50 دن کی روپوشی کے بعد گرفتاری بھی ممتا بنرجی کی سیاست پر کئی سوال اٹھاتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بنگال کے لوگ بالخصوص خواتین ممتا بنرجی کے دور حکومت میں محفوظ نہیں ہیں، اس لیے انہیں اقتدار سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔
امت مالویہ نے شیخ شاہجہاں کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایکس پوسٹ پر لکھا’’ مغربی بنگال اسمبلی کے اجلاس میں شیخ شاہجہاں کا بچاو کرنے کے بعد، ممتا بنرجی کے پاس کوئی متبادل نہیں بچا تھا، آخرکارانہوں نے مغربی بنگال پولیس کو سندیشکھالی میں جنسی تشدد، قتل، زمینوں پر قبضے اور سرکاری اہلکاروں پر حملے کیملزم ترنمول لیڈر کو گرفتار کرنے کی اجازت دے دی ۔
ممتا بنرجی کی سیاست پر سوال اٹھاتے ہوئے مالویہ نے کہا، ’’شاہجہاں کی گرفتاری ان کے روپوش ہونے کے 50 دن بعد، وزیر اعظم کے بنگال پہنچنے سے ایک دن پہلے اور کلکتہ ہائی کورٹ کی طرف سے سختی کے بعد کی گئی۔‘‘بی جے پی لیڈر نے کہا، شیخ شاہجہاںترنمول کے واحد مجرم نہیں ہیں۔ شوکت مولا، جہانگیر خان جیسے بہت سے لوگ ہیں،نتائج کے خوف کے بغیر مغربی بنگال پولیس کی مدد سے دہشت کا راج چلاتے ہیں،کیونکہ وہ ممتا بنرجی کو ووٹ دیتے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ ممتا بنرجی کے دور حکومت میں بنگال محفوظ نہیں ہے، خاص طور پر خواتین۔ ممتا کو اقتدار سے ہٹانے کی ضرورت ہے۔