ٹرائل کورٹ یا ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات پر سے 6 ماہ بعد روک نہیں ہٹائی جا سکتی: سپریم کورٹ

تاثیر،۲۹فروری ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن

نئی دہلی، 29 فروری :سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ٹرائل کورٹ یا ہائی کورٹ میں زیر التوا مقدمات پر عائد پابندی 6 ماہ بعد ازخود ختم نہیں کی جا سکتی۔چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے 2018 میں تین ججوں کی بنچ کے اس حکم کو پلٹ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ مقدمات پر عائد عبوری اسٹے کی زیادہ سے زیادہ مدت صرف 6 ماہ ہی تصور کی جائے گی، جب تک کہ روک کو خصوصی حکم کے ذریعہ نہ بڑھایا گیا ہو ۔آئینی بنچ نے کہا ہے کہ آئینی عدالت کو نچلی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کے نمٹانے کے لیے وقت کی حد مقرر نہیں کرنی چاہیے۔ زیریں عدالت کے جج مقامی زمینی حقیقت کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ اس لیے بہتر ہو گا کہ ان پر چھوڑ دیا جائے کہ وہ کس معاملے کو تصرف میں ترجیح دیں۔ صرف انتہائی غیر معمولی حالات میں آئینی عدالت کو نچلی عدالت میں زیر التوا مقدمات کے لیے وقت کی حد مقرر کرنی چاہیے۔