عظیم الشان خواتین مشاعرہ اور کوی سمیلن میں شرکت کرنامیرے لئے اعزاز ہے:تارا اقبال
پٹنہ، 1 مارچ 2024:معروف شاعرہ تارا اقبال کا تعلق رائے بریلی، یوپی سے ہے۔انہوں نے شعر وشاعری میں انمٹ چھاپ چھوڑی ہیں۔ مقامی سطح سے لیکر انٹرنیشنل مشاعروں اور پروگراموں میں اپنی غزلوں اور گیتوں سے سامعین و حاضرین کو مسحور کر دیا ہے۔7مارچ کو راجدھانی پٹنہ واقع رویندر بھون میں منعقد ہونے والے خواتین مشاعرہ وکوی سمیلن میں شاعرہ تارا اقبال کی شرکت ہوگی ۔ واضح ہو کہ پٹنہ لیٹریری فیسٹیول کے زیرنگراں اور روبن میموریل اسپتال و شیتل ڈیولپرس کے تعاون سے عالمی یوم خواتین کے موقع پر 7مارچ کو عظیم الشان خواتین مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد کیا گیا ہے۔ خواتین مشاعرہ و کوی سمیلن میں شرکت کو لیکر پی ای ایف نمائندہ سے گفتگو کے دوران شاعرہ تارا اقبال نے کہا کہ مقامی سطح سے لیکر انٹرنیشنل مشاعروں اور پروگراموں میں حصہ لے چکی ہوں۔ انہوں نے شعر و شاعری کے آغاز کے تعلق سے کہا کہ قریب بارہ،تیرہ برس کی عمر سے ہی شعر و سخن کی شروعات ہو گئی تھی۔
شاعرہ نے شاعری کی دنیا میں قدم رکھنے کو لیکر کہا کہ کسی حادثے یا وجوہات کی بنا پر نہیں ہوا بلکہ لاشعوری طور پر میں نے اس احساس کو خود میں مسلسل پایا۔
ملے جو خود سے تو پہچان تک نہیں پائے،
کہ میرا مجھ سے تعارف ہی غائبانہ ہوا،
تارااقبال
انہوں نے کہا کہ پٹنہ میں پہلی مرتبہ یہ میرا ادبی سفر ہے۔انہوں نے کہا کہ میں بانی و سیکرٹری خورشید احمد صاحب اور ان کی ادبی تنظیم پٹنہ لٹریری فیسٹیول کی بیحد ممنون و مشکور ہوں کہ انہوں نے مجھے اس ناچیز کو معیاری بین الاقوامی خواتین مشاعرہ و کوی سمیلن میں حاضری کا شرف بخشا ہے
ساتھ ہی پٹنہ پی ایل ایف کے مشاعرے میں پہلی مرتبہ مجھے شرکت کا موقع فراہم ہوا ہے۔شاعری تارا اقبال کے
چند شعر۔۔
ہم جو آجاتے ہیں یوں روز منانے تم کو،
بے بسی ہے اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔
کچھ دور تلک تو مرے ہمراہ چلو تم
کچھ دیر تلک تو مجھے ہونے کا گماں ہو۔انہوں نے اپنے استاد کے سلسلے میں کہا کہ ویسے تو متعدد اساتذہ کے مفید مشورے اور اصلاح سے مستفید رہی ہوں۔مگر باقاعدہ طور پر مجھے کوئی استاد میسر نہیں رہا۔لیکن خود شاعری کی دنیا میں پروان چڑھتی رہی۔انہوں نے کہا کہ پٹنہ کے اس عظیم الشان بین الاقوامی خواتین مشاعرہ اور کوی سمیلن میں شرکت کرنامیرے لئے اعزاز ہے۔
نیشنل و انٹر نیشنل مشاعروں میں حصہ لینے کو لیکر انہوں نے کہا کہ کئ مرتبہ مجھے شرکت کا شرف حاصل ہوا ۔پھر سے انہوں نے پی ایل ایف کے بانی و سیکرٹری کو مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

