تاثیر،۲۱مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ(پریس ریلیز)جنتا دل راشٹروادی کے قومی کنوینر اشفاق رحمن نے پاسوان اور مسلمان کا سیاسی موازنہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5 فیصد پاسوان کے لئے وزیراعظم سے لیکر بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی یونٹ تک چراغ پاسوان کو منانے میں جٹے رہے اور 18 فیصد مسلمان کا اس لوک سبھا انتخاب میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔مسلمانوں کو اپنی سیاسی اوقات کا اندازہ اسی بات سے لگانا چاہئے کہ سیاست میں وہ کہاں کھڑے ہیں ؟جہاں چراغ نے پاسوان ذاتی کی طاقت دکھا کر پانچ سیٹ لینے میں کامیاب رہے وہیں مسلمانوں کو ایک -ایک سیٹ کی بھیک مانگنی پڑ رہی ہے۔مگدھ کی اعلان شدہ چار سیٹ پر کسی بھی پارٹی نے مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا۔حد تو یہ ہے کہ مسلمانوں کی اپنی پارٹی بھی موجود ہے مگر اسے حقیر نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سیاسی فقیر بنے رہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اگر یکمشت 15-20 فیصد ووٹ متحد ہو کر مسلم قیادت والی پارٹی کو دے دیتے ہیں تو انتخابی منظر نامہ کو بدلا جا سکتا ہے۔
اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ قوم اپنے محافظ کو پہچانتی نہیں ہے اور اپنے رہبر پر شک کرتے ہوئے خود کو تباہ کرنے پر آمادہ ہے۔اپنوں کی شکایت کرنا اس نے اپنی وجود میں شامل کر لیا ہے۔آج کی نسل کا سب سے زیادہ شکایت اپنے والدین سے ہے۔یہ نہیں کیا،وہ نہیں کیا!ٹھیک اسی طرح ملت نے اپنے رہبر پر عیب لگانا اپنا فریضہ سمجھ لیا ہے۔اور پوری قوم ذاتی طور سے اپنے آپ کو افضل ،بہتر اور باصلاحیت سمجھتی ہے اور باقی لوگوں کو جاہل ،بدگمان اور غیر ذمہ دار سمجھتی ہے۔
اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ ابھی اْمّہ میں سیاسی گراوٹ اور آئیگی۔قوم بھی پوری طرح تیار بیٹھی ہے کہ جب تک تباہی ہر فرد تک نہیں پہنچ جائے گی ،ہوش میں نہیں آنا ہے۔ابھی تو شہر ،محلہ تک ہی تباہی کی دستک پہنچی ہے۔مسلمان اب بھی سیاسی طور پر بیدار نہیں ہوا تو یہ تباہی ایک دن واقعی ہر گھر اور ہر فرد تک پہنچ جائے گی۔
سیاسی بدگمانی اس قدر ہے کہ چار ٹھو چچا،تین ٹھو مامو، دو گو بھتیجہ انتخاب میں کھڑا ہو جاتا ہے اور موتی چور کی مٹھائی کی طرح ووٹ بانٹ لیتے ہیں۔قوم بھی اتنی ہی بد گمان ہے وہ بھی ووٹ بانٹ بانٹ کر دیتی ہے۔جس کا نتیجہ ہے کہ دیوبند جیسے علاقہ سے مسلمان ہار جاتا ہے اور بھاجپا جیت جاتی ہے۔جہاں مسلم قیادت کی پارٹی کے امیدوار ہوں وہاں باقی مسلم امیدوا ر کو میدان سے خود ہٹ جانا چاہئے۔
اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ اگر میری بات سمجھ میں نہیں آئی تو سیاسی گراوٹ کا دور اور بھیانک ہوگا۔لگتا ہے قوم بھی پوری طرح تیار بیٹھی ہے کہ جب تک تباہی ہر فرد تک نہیں پہنچ جائے گی ،ہوش میں نہیں آنا ہے۔ابھی تو شہر ،محلہ تک ہی تباہی کی دستک پہنچی ہے۔مسلمان اب بھی سیاسی طور پر بیدار نہیں ہوا تو یہ تباہی ایک دن واقعی ہر گھر اور ہر فرد تک پہنچ جائے گی۔دنیا کی کوئی بھی قوم بغیر رہبر کے ترقی نہیں کر سکتا۔ایک مسلمان ہی ہے جس کو گمان ہے کی بغیر رہبر کے چاند پر کمند ڈال دیں گے۔ جبکہ جمہوری نظام میں امام کا ہونا آئینی فریضہ ہے اور مسلمانوں کے لئے اسلامی تقاضا بھی ہے۔یہ بات کب سمجھے گا مسلمان ؟

