تاثیر،۲۸مارچ ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
پٹنہ:۲۸ مارچ ۲۰۲۴۔ خدابخش لائبریری میںمغل مصوری میں تقابلی نوعیت پر پروفیسرراکیش سنہا کے لکچر کاانعقاد کیا گیا ۔ اس موقع پر ڈاکٹر شائستہ بیدار، ڈائرکٹر خدا بخش لائبریری نے کہا کہ خدا بخش لائبریری ہمیشہ لکچر زاور نمائش کتب کے ذریعہ لوگوں تک علم کی روشنی پہنچاتی رہی ہے۔۔اس سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے آج مغل مصوری پر اظہار خیال کے لئے پروفیسر راکیش سنہا کو دعوت دی گئی ہے۔ خدابخش لائبریری میں مصوری کے اعلی نمونے موجود ہیں۔خاص کر تاریخی مخطوطات میں۔ ان مخطوطات پر ملکی اور بیرون ملکی اسکالر یہاں آکر ریسرچ کرتے رہتے ہیں۔کیونکہ Miniature Painting کے گران قدر نمونے خدا بخش لائبریری میں محفوظ ہیں۔
پروفیسر سنہا نے اپنے لکچر کے آغاز میں کہ میں نے مصور مخطوطات پر کام کیا ہے ان میں حمزہ نامہ، طوطی نامہ رزم نامہ اور ظفر نامہ قابل ذکر ہیں۔انہوں نے آغاز میں مغل مصوری کی تفصیل سے تاریخ بیان کی۔انہوں نے کہا کہ مغل دور میں ایران سے عبدالصمد اور مرشد علی جسے مصور مغل دربار میں لائے گئے۔مغل دربار کے مصوروں کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ اکبر کے دربار میں ۲۶۰ مصوروں میں ۱۴۵ ہندو مصور تھے۔اسی طرح جہانگیر کے دربار میں ۴۳ اور شاہجہاں کے دربار میں ۱۷ ہندو مصورو تھے۔فاضل مقرر نے سلائڈ شو کے ذریعہ حمزہ نامہ،طوطی نامہ سے مصور نمونے پیش کئے۔ان میں دسونت اور بساون کی بنائی ہوئی تصاویر کا خصوصی جائزہ لیا۔

