تاثیر،۱اپریل ۲۰۲۴:- ایس -ایم- حسن
سہسرام ( انجم ایڈوکیٹ ) ورلڈ بائی پولر ڈے کے موقع پر نارائن میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل جموہار کے شعبہ دماغی امراض کے زیراہتمام ایک پروگرام کا انعقاد کر بیداری مہم چلائی گئی، اس دوران میڈیکل ایجوکیشن کے طلباء اور عام لوگوں کے درمیان بائی پولر ڈیولپمنٹ میں مبتلا شخص کی دیکھ بھال کے لئے تجاویز پیش کی گئیں اسکے ساتھ ساتھ اس کی علامات، علاج اور تشخیص پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی ۔ مندرجہ بالا معلومات دیتے ہوئے دماغی امراض کے شعبہ کی انچارج ڈاکٹر انجنا گاندھی نے آج بتایا کہ ہر سال 30 مارچ کو ورلڈ بائی پولر ڈے منایا جاتا ہے جس کے دوران ڈپریشن اور انماد میں مبتلا لوگوں کی مدد کے لئے ایک بیداری پروگرام کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بائی پولر میں مبتلا مریض کی صحت کی حالت دیکھ کر اس کا علاج کیا جاتا ہے، بائی پولر ڈس آرڈر میں مبتلا افراد کے مزاج میں کافی تبدیلیاں آتی ہیں، کبھی وہ بہت جذباتی ہو جاتا ہے، کبھی وہ بہت اداس ہو جاتا ہے، کبھی وہ بہت خوش ہو جاتا ہے، اسکی سوچوں کے گھوڑے بہت تیزی سے دوڑنے لگتے ہیں اور اس میں سرگرمی جیسی بے چینی بھی زیادہ ہوتی ہے، اس کی نیند بھی ضرورت سے کم ہو جاتی ہے، وہ بہت تیز باتیں کرتے ہیں اور ان کی خواہش۔ کھانے، پینے اور تفریح میں اضافہ ہونے لگتا ہے، ایسے مریضوں کو موڈ سٹیبلائزر، اینٹی ڈپریشن، اینٹی سائیکوٹکس، اینٹی اینزائیٹی ادویات دی جاتی ہیں اور ان کا علاج دماغی صحت کے ماہر ڈاکٹر کرتے ہیں ۔ اس قسم کے مریض کو ہدایت کے مطابق دوائیں لینے، منشیات یا نقصان دہ مادوں سے پرہیز کرنے اور ان سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کی ترغیب دی جانی چاہئے جن میں وہ پہلے دلچسپی رکھتے تھے، انہیں اپنا کام خود کرنے کی ترغیب دی جائے اور انکی صحت کا بھی خیال رکھا جائے ۔

